یمن میں حوثی قبائلیوں کی جنوب میں پیش قدمی جاری

،تصویر کا ذریعہAFP

یمن میں باغی حوثی قبائلی جنگجو ملک کے جنوب میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں ان کی صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی حامی سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔

شیعہ حوثی گروہ شمال میں اپنے زیرانتظام علاقوں سے مقامی فوجوں سے لڑتے ہوئے جنوب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

منگل کو اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجو اور سابق صدر علی عبداللہ صالح حامی فوجی ساحلی شہر مخا اور ضالع میں داخل ہو گئے ہیں۔

سیکورٹی حکام اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں اور سابق صدر کے حامی فوجی توپ خانے، جہاز گرانے والی توپوں، خود کار ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور ان کی عبدالربوہ منصور ہادی کے حامی ملیشیا اور قبائلیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔

طبی عملے کے مطابق تعز شہر میں حوثی قبائلیوں کے حامی فوجیوں نے کم از کم چار مظاہرین کو ہلاک کر دیا ہے۔

باغیوں کی صدر ہادی کے حامیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنباغیوں کی صدر ہادی کے حامیوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق باغیوں کے گورنر کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔

ضالع صوبے کا دارالحکومت بھی ضالع ہے اور یہ تعز سے مشرق کی جانب 78 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

روئٹرز کے مطابق باغی اس کے علاوہ تعز سے مغرب کی جانب واقع ساحلی شہر مخا میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔

یہ شہر دفاعی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ بحیرہ قلزم اور خلیج عدن کو ملانے والی آبنائے باب المندب پر واقع ہے اور یہ تیل کی تجارت کا ایک مصروف سمندری راستہ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے یمن میں ایرانی ’مداخلت‘ کی بھی مذمت کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے یمن میں ایرانی ’مداخلت‘ کی بھی مذمت کی ہے

اس پیش قدمی نے حوثی باغیوں اور صدر عبدالربوہ منصور ہادی کی وفادار فوجوں کے مابین تنازع کے قریب کر دیا ہے جو جنوب میں ساحلی شہر عدن میں مقیم ہیں۔

یمنی صدر نے فروری میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد شہر چھوڑ دیا تھا۔

تاہم اس اقدام کو جنوب میں رہنماؤں یا سنی گروہوں نے اہمیت نہیں دی ہے۔ اس کے باعث یمن کے ہمسایہ خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کو تشویش ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں نے ایک ایسے وقت پیش قدمی کی ہے جب ایک دن پہلے پیر کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا تھا کہ یمن میں عدم استحکام کا پرامن حل نہ نکالا گیا تو خلیجی ممالک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ’ناگزیر اقدامات‘ کر سکتے ہیں۔

یہ ردعمل یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے خلیجی عرب ریاستوں سے یمن میں مداخلت کریں اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے نو فلائی زون قائم کریں۔

شیعہ حوثی گروہ شمال میں اپنے زیرانتظام علاقوں سے مقامی فوجوں سے لڑتے ہوئے جنوب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشیعہ حوثی گروہ شمال میں اپنے زیرانتظام علاقوں سے مقامی فوجوں سے لڑتے ہوئے جنوب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں

اس سے پہلے اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یمن خانہ جنگی کے قریب ہے جبکہ شعیہ حوثیوں کی جانب سے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گذشتہ دنوں حوثی باغیوں نے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز کے مختلف حصوں پر قبضہ کر لیا تھا جس سے بعد مقامی سطح پر مظاہرے بھی ہوئے۔

خیال رہے کہ یمن میں موجود متحارب باغی گروہوں جن میں حوثی، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہیں کا تشدد دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

گذشتہ جمعے کو دارالحکومت صنعا میں حوثی قبائلیوں کی دو مساجد پر ہونے والے خودکش حملوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔