دولتِ اسلامیہ پر آن لائن مزاحیہ ’حملے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس ہفتے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی پیروڈی یعنی مضحکہ انگیز نقل کے خاکے آن لائن پر بہت دیکھے جا رہے ہیں۔
کیا اس سے جنگجوؤں کی مدد ہوتی ہے یا انھیں اس سے نقصان پہنچتا ہے۔
لگتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی یہ ڈرامائی انداز کی سیاہ کاری جان بوجھ کر ایسی بنائی گئی ہے کہ یہ آن لائن پر وائرل ہو جائے۔
نیوز میڈیا پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے اقدام کو رپورٹ کر کے ان کی ایک طرح سے مدد ہی کر رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نیل ڈرکن نے دسمبر میں اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ ’میڈیا کے کچھ حصے دولتِ اسلامیہ کی حد سے زیادہ زیادتیوں کے عشق میں مبتلا ہو چکے ہیں، اور ہر دھلا دینے والی ویڈیو پر جھپٹ پڑتے ہیں اور پھر انھیں اس خیال سے سوشل میڈیا کی دنیا میں لانچ کر دیتے ہیں کہ انھیں زیادہ لوگ دیکھیں گے۔‘
آج کل کئی نیوز سائٹیں احتیاط سے دولتِ اسلامیہ کی تصویر پیش کر رہی ہیں۔ لیکن کسی نے بھی مزاحیہ اداکاروں کو اس کے متعلق نہیں بتایا۔
اس ہفتے آن لائن پر دولتِ اسلامیہ کی کئی پیروڈی والی ویڈیوز انٹرنیٹ پر بہت دیکھی گئی ہیں۔
امریکہ میں پروگرام سیٹرڈے نائٹ لائیو میں فلم ففٹی شیڈز آف گرے کی ڈکوٹا جانسن کہتی ہیں ’ڈیڈ، یہ صرف داعش ہی تو ہے‘ (It's only ISIS, Dad) اور اس کے بعد وہ جنگجوؤں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر چلی جاتی ہیں۔ اس کلپ کو 16 لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد ٹوئٹر پر اس پر بہت تنقید کی گئی۔
مصر میں بھی کئی عام انٹرنیٹ صارفین نے دولت اسلامیہ کے متعلق مزاحیہ ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔
ان میں سب سے قابلِ ذکر احمد شیحاتا کی فیس بک پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو ہے جس میں ایک دلہا کہتا ہے کہ وہ دلہن اور مہمانوں کو نئے طریقے سے حیران کرنا چاہتا ہے۔
وہ اپنے دوستوں کو کہتا ہے کہ وہ داعش کے جنگجوؤں کی طرح کے کپڑے پہن کر ایک پنچرے میں ڈانس کریں۔
ان کی ویڈیو اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے لگا کہ ان کا مذاق اڑانا ٹھیک ہے۔‘
’میں متاثرین کے خاندانوں کو کہنا چاہتا تھا کہ جیت داعش کی نہیں متاثرین کی ہے۔‘
اسی طرح مصر سے پوسٹ کی جانے والی پیروڈی کی کئی اور ویڈیوز ہیں جن میں تین نوجوان لڑکیوں کی فیس بک بیلی ڈانس ویڈیو کو 150,000 مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ انھوں نے دولت اسلامیہ کی جلادوں اور ان کے ایک شکار کا لباس پہن رکھا ہے۔
ان ویڈیوز کو بھی کئی بے وقوفی کہا جا رہا ہے جس سے پرتشدد جنگجوؤں کو شہرت ملتی ہے۔
نیل ڈرکن نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ہر چیز کا مذاق اور پیروڈی بنائی جا سکتی ہے لیکن داعش کے جنگجوؤں والی شادی کی ویڈیو اس مضمون سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔
’دولت اسلامیہ کی کالی کرتوتوں کا کامیابی سے مذاق اڑانا آسان کام نہیں۔‘
’کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ پول پوٹ اور موت کے کھیتوں پر کامیڈی بنائی جائے۔ یقیناً نہیں۔‘
سیٹرڈے نائٹ لائیو کے ترن کلام نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ہمارا سب سے بڑا ہتھیار مذاق اڑانے کی آزادی ہے۔‘







