نتن یاہو کو بےباکی مہنگی پڑ سکتی ہے ؟

،تصویر کا ذریعہAP
نتن یاہو کے کانگریس سے خطاب کے بارے میں یہ تو حتمی ہے کہ صدر اوباما اس سے خوش نہیں ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اس وقت بہت حساس موڑ پر ہیں اور عین اسی وقت نتن یاہو کہتے ہیں کہ اس معاملے پر معاہدہ ایک غلطی ہوگی۔ سچی بات یہ ہے کہ جو بھی امریکی صدر ہوگا اس کو یہ بات کچھ زیادہ پسند نہیں آئے گی۔
کانگریس کے سپیکر کی جانب سے وائٹ ہاؤس یا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بتائے بغیر اسرائیلی وزیراعظم کو کانگریس سے خطاب کی دعوت دینا اور پھر اس خطاب میں امریکی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جانا یقیناً ایک غیرمعمولی اقدام ہے۔
نتن یاہو سے کانگریس کے اراکین بہت متاثر نظر آئے۔ ان کے سیاسی خطاب کا انداز حیران کن تھا۔ نتن یاہو کے خطاب کے شروع ہونے سے پہلے ہی اراکین نے تالیاں بجا کر ان کو داد دی۔
ایسا لگ رہا تھا کہ ان کو معلوم ہے کے سب کو کیسے متاثر کیا جائے۔
برطانوی سیاستدان مائیکل ہیسلٹائن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ محفل کو متاثر کرنے اور گرمانے کا فن جانتے ہیں۔
نتن یاہو نے بھی کانگریس میں ریپبلیکن اراکین اور کچھ ڈیموکریٹس کو خوب متاثر کیا۔
یہ سو چنا بھی مشکل ہے کہ دنیا کی کسی اور پارلیمنٹ بشمول اسرائیلی پارلیمنٹ میں ان کی اتنی ستائش کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ اگر نتن یاہو برطانوی، فرانسیسی یا جرمنی کی پارلیمنٹ میں جاتے تو ان کو کھبی ابھی اتنی پزیرائی نہیں ملتی۔
لیکن یہاں واشنگٹن میں کانگریس کے اراکین اپنی نشستوں پر باربار کھڑے ہوکر ان کے لیے تالیاں بجا رہے تھے۔
نتن یاہو نے اپنے دلائل گرم جوشی کے ساتھ بیان کیے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وجود کو ایران سے خطرہ ہے اور ان کو یقین ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہو گیا تو یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے بجائے ان کے حصول میں ایران کی مدد کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک ناقص معاہدہ ہے، ایران سے صرف اسی صورت میں ہی معاہدہ ہونا چاہیے جب وہ خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت بند کرے، اس کو دنیا بھر میں دہشت گردوں کی امداد روکنا پڑے گی اور اسے اسرائیل کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دینے سے بھی باز آنا پڑے گا۔
نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور امریکہ اس پر اعتبار کر کے غلطی کرے گا۔
ان کے خطاب کے شروع میں کچھ حصہ ایسا بھی تھا جو کم مخلص نظر آ رہا تھا۔ یہ وہی حصہ تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس بات پر حیران ہیں کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میرے یہاں آنے کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں‘۔ خیال رہے کہ اسرائیلی انتخابات میں صرف دو ہفتے رہ گئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نتن یاہو نے بے باکی مظاہرہ کیا ہے لیکن یہ وقت ہی بتائے گا کہ ان کو اس کا فائدہ ہوگا یا نقصان۔
نتن یاہو امید کر رہے ہیں کہ اس بےباک خطاب سے ان کو فائدہ ہو گا اور یہ معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کو امریکی صدر اور انتظامیہ سے تعلقات خراب ہو نے کی بھی پروا نہیں ہے۔
لیکن دلیری مہنگی بھی پڑ جاتی ہے۔
واشنگٹن جہاں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس میں ہر چیز پر اختلاف ہو تا ہے لیکن اسرائیل کی حمایت پر دونوں پارٹیوں میں کبھی بھی کوئی اختلاف نہیں رہا بلکہ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ دونوں اسرائیل کی حمایت میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔
لیکن پہلی بار ایسا لگا کہ اسرائیل پر دونوں پارٹیوں میں اختلاف ہے۔
نتن یاہوکے خطاب کے وقت کچھ ڈیموکریٹس کانگریس نہیں آئے اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران ان کی آنکھیں بھر آئیں تھیں کیونکہ انھوں نے ہماری عقل، ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہمارے علم اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں ہمارے مثبت کردار کی توہین کی ہے۔‘
ایک اور امریکی حکومتی نمائندے نے اس سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ان کی تقریر میں کچھ بھی نیا نہیں تھا، کوئی ایک متبادل پیش نہیں کیا گیا، خالی باتیں کیں کوئی حل نہیں بتایا۔‘
یہ غیر معمولی بیانات ہیں اسرائیلی رہنماؤں کے متعلق پہلے امریکہ میں ایسے بات نہیں کی جاتی تھی۔ اب کی جاتی ہے۔







