یروشلم کے میئر نے حملہ آور کو دبوچ لیا

،تصویر کا ذریعہReuters
یروشلم کے میئر نر برکات نے چاقو سے مسلح ایک مشتبہ فلسطینی حملہ آور کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد اسے قابو کر لیا۔
میئر نر برکات کا کہنا ہے کہ جب ان کی گاڑی سٹی ہال کے قریب سے گزر رہی تھی تو انھوں نے ایک شخص کو حملہ آور ہوتے دیکھا۔
میئر نے کہا کہ انھوں نے فوراً اپنے ڈرائیور کوگاڑی روکنے کا حکم دیا۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میئر نر برکات مشتبہ حملہ آور کی جانب بڑھ رہے ہیں اور پھر اسے زمین پر گرا لیتے ہیں۔
میئر برکات نے بعد میں ایک پریس کانفرنس میں اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب اس نے حملہ ہوتے دیکھا تو اس نے ڈرائیور کو فوراً گاڑی روکنے کا حکم دیا۔
انھوں نے کہا کہ وہ اپنے باڈی گارڈ کے ہمراہ آور کو قابو کرنے کے لیے آگے بڑھے اور جب باڈی گارڈ نے اپنی گن حملہ آور پر تانی تو اس نے اپنے ہاتھ سے چاقو گرا دیا۔ اس کے بعد میئر اور کئی دوسرے لوگوں نے نوجوان کو دبوچ لیا۔
پولیس نے ایک 18 سالہ فلسطینی نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی نوجوان غیر قانونی پر اسرائیل میں داخل ہوا تھا۔
حملے میں زخمی ہونے والے 27 سالہ شخص کو ہسپتال لے جایاگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قدامت پسند یہودی شخص پر حملے کے محرکات ابھی تک واضح نہیں ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں فلسطینوں کے اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی لہر میں یہ سب سے تازہ واقع ہے۔
رواں سال جنوری میں چاقو سے مسلح ایک فلسطینی شخص نے بس میں سوار میں مسافروں پر حملہ کیا تھا جس میں کم از کم 12 لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اس شخص کو محکمۂ جیل کے افسر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔







