گم شدہ کیمرا فیس بک کے ذریعے مالک تک پہنچ گیا

کرس کو ڈھونڈنے کے لیے سٹیو کی فیس بک پر درخواست آگ کی طرح پھیل گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکرس کو ڈھونڈنے کے لیے سٹیو کی فیس بک پر درخواست آگ کی طرح پھیل گئی

چھ ماہ قبل آسٹریلیا میں ایک گم شدہ کیمرے کو اس کے مالک تک واپس پہنچانے کے لیے ایک اجنبی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر مہم چلوائی، اور اس کی مدد سے مالک کو ڈھونڈ لیا۔

جرزی کے رہنے والے 22 سالہ سیاح کرس ہیزفرڈ آسٹریلوی ریاست نیوساؤتھ ویلز کی بائرن بے میں کایاکنگ (چھوٹی کشتی کا سفر کرنا) کر رہے تھے کہ ان کا گو پرو کیمرا گم ہو گیا۔

اس کے کچھ ماہ بعد ایک آسٹریلوی سٹیو کارموڈی کو یہ کیمرا ایک دریا کے کنارے ملا اور انھوں نے کیمرے کے مالک کو ڈھونڈنے کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔

مہم چلانے کے دو ہفتے اور آٹھ ہزار شئیرز کے بعد اس کے مالک کرس مل گئے۔

سٹیو نے اپنی فیس بک پر لکھا: ’اگر ہم اس شخص کو ڈھونڈ نکالیں تو میں اسے اس کی میموری سٹک واپس کر سکتا ہوں جس میں 32 جی بی کی قیمتی یادیں بھری ہوئی ہیں۔‘

سڈنی کے آپرا ہاؤس کے باہر کرس کی تصویر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسڈنی کے آپرا ہاؤس کے باہر کرس کی تصویر

فیس بک پر ان کی پوسٹ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اس کی خبر آسٹریلیائی ٹی وی پر بھی نشرکی گئی جس نے کرس کے کیمرے کی میموری سٹک میں سے ان کی تصاویر نکال کر نشر کیں۔

کرس لندن میں وکالت کرتے ہیں۔

کرس نے دنیا بھر میں تصاویر کھینچیں، اور ان میں امریکہ کی ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ، گرینڈ کینیئن اور سڈنی کے آپرا ہاؤس کی تصاویر موجود ہیں۔

کرس نے امریکہ کے گرینڈ کینیئن کا بھی دورہ کیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکرس نے امریکہ کے گرینڈ کینیئن کا بھی دورہ کیا

کرس کے دوستوں نے یہ تصاویر دیکھ کر انھیں مطلع کیا اور انھیں ان کی کھوئی ہوئی تصاویر واپس مل گئیں جو ان کے ٹوٹے ہوئے کیمرے میں موجود تھیں۔

کرس نے کہا کہ ’میں تو چونک گیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ سٹیو نے میری تصاویر واپس کرنے کے لیے اتنی کوشش کی۔ سٹیو، میں تمھارا بڑا شکر گزار ہوں۔ اگر تم کبھی لندن آئے تو پہلی دعوت میری طرف سے ہو گی۔‘

سٹیو نے اے بی سی گولڈ کوسٹ سٹوڈیو سے کہا کہ ’یہ بہت اچھی بات ہے اور اس سے ہمیں سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔‘