شام جانے والے جاپانی صحافی کا پاس پورٹ لے لیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
جاپان کے مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جاپانی حکام نے ایک صحافی کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں لے لیا ہے کیونکہ وہ شام کا سفر کرنے جا رہا تھا۔
حکام نے کہا کہ یو ایچی سوگی موٹو کا پاسپورٹ ان کی زندگی بچانے کے لیے ان سے لینا بہت ضروری تھا۔
59 سالہ فوٹو گرافر یو ایچی جنھوں نے 27 فروری کو شام جانے کا منصوبہ بنایا تھا، نے اس قدم کو اظہار رائے کی آزادی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا ہے۔
گزشتہ ماہ شام میں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں دو جاپانی یر غمال قتل ہوئے تھے۔
یو ایچی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا دولت اسلامیہ کے زیر تسلط علاقوں کا دورہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
کہا جاتا ہے کہ جاپانی حکومت کی جانب سے ایسا پہلی بار کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے پاسپورٹ کے قوانین کے تحت، ایک شخص کی زندگی بچانے کے لیے ان کا پاس پورٹ قانونی طور پر اپنے قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔
یو ایچی کا کہنا ہے کہ انھوں نے شام اور عراق جیسے جنگ زدہ علاقوں کا پہلے بھی سفر کیا ہے اور ایسی جگوں میں ہمیشہ احتیاطی تدابیر سے کام لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ شام جانے سے پہلے وہ ایک سابق فوجی کے ساتھ ترکی جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے جنھوں نے پہلے بھی کینجی گوٹو کے ساتھ کام کیا تھا۔ کینجی کو گزشتہ ماہ دولت اسلامیہ نے یر غمال بنا کر شام میں قتل کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد حالیہ دنوں میں عوامی رائے کے تحت موجودہ وزیر اعظم شنزو آبے اور ان کی حکومت کی مقبولیت میں اضافہ آیا ہے۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جاپان کو دولت اسلامیہ کے قبضے میں دیگر ممالک کی غیر فوجی مدد کو جاری رکھنا چاہیے۔
جنوری میں میں شنزو آبے نے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے ممالک کو بیس کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ رقم شام اور عراق سے نکلنے والے پناہ گزین لوگوں کی مدد فراہم کرنے کے لیے دی گئی ہے۔







