نائجیریا کے شہر پر بوکوحرام کا ایک اور بڑا حملہ

،تصویر کا ذریعہGetty
عینی شاہدین نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے جنگ جوؤں نے نائجیریا کے دفاعی اہمیت کے حامل شہر مایدوگوری پر تازہ حملہ کیا ہے۔
ملک کے شمال میں واقع شہر کی گلیوں میں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں اور شہریوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ حملہ اتوار کو علی الصبح کیا گیا۔
گذشتہ ہفتے بھی بوکوحرام نے اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم نائجیریائی فوج نے اسے ناکام بنا دیا تھا۔
مایدوگوری میں لوگوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق تین بجے شروع ہوا، اور باغیوں اور فوجیوں کے درمیان شہر کے جنوبی کنارے پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ کچھ رضاکار بھی سرکاری فوج کی جانب سے باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ایک مقامی شہری آدم کرینووا نے بتایا: ’تمام شہر سہما ہوا ہے۔ لوگ خوفزدہ ہیں کہ اگر بوکوحرام نے فوج کو شکست دے دی تو کیا ہو گا۔‘
نائجیریا کے اخبار پریمیئم ٹائمز کے مطابق مایدوگوری میں چاروں طرف بھاری توپ خانے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
ایک ہفتہ قبل بوکوحرام کی مایدوگوری پر قبضے کی کوشش کو فوج نے ناکام بنا دیا تھا۔ تاہم جنگجو شہر سے 125 کلومیٹر دور مونگونو نامی قصبے اور وہاں موجود فوجی چھاؤنی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
مایدوگوری میں بہت سے ایسے لوگ رہتے ہیں جو بوکوحرام کے ڈر سے مختلف علاقوں سے بھاگ کر وہاں آئے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کہتے ہیں کہ باغی 14 فروری کو نائجیریا میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل حملوں میں تیزی لا رہے ہیں۔
بوکوحرام نے نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی غرض سے 2009 سے مسلح بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ اس دوران ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔







