امریکی جنہیں ڈیجیٹل کامیابی تباہ کر گئی

- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سان فرانسسکو
صبح ہونے کو ہے۔ تھوڑا کہرا، تھوڑا اندھیرا دونوں مل کر سان فرانسسکو شہر کو ایک مٹیالا سا رنگ دے رہے ہیں اور زیادہ تر لوگ ابھی اپنے نرم و گرم بستروں میں دبکے ہوئے ہیں۔
لیکن بہت سارے ایسے ہیں جو جلدی جلدی اپنا پرانے کمبل، بدبودار اوور کوٹ، پانی کا کنستر، ایک دو پھٹی کتابیں اور کچھ ایسا سامان جسے وہ اپنا کہہ سکتے ہیں سمیٹ رہے ہیں اور ٹھونس رہے ہیں ایک ٹرالی میں جو شاید کسی سپر مارکیٹ سے چرائی گئی ہو۔
جلد بازی اس لیے ہے کہ جو جگہ رات بھر کے لیے ان کا بسیرا تھی وہاں اب کونسل کی گاڑی پہنچنے والی ہے جس کا کام پانی کی تیز بوچھاڑ سے رات بھر کی بدبو، پیشاب اور قے کے داغ کو صاف کرنا اور سستی شراب اور بیئر کی ٹوٹی ہوئی بوتلوں کو ہٹانا ہے تاکہ جب ارب پتیوں اور آئیڈياز کا یہ شہر جاگے تو اسے سب کچھ خوشگوار نظر آئے۔
مجھے اس شہر میں اتنے زیادہ بےگھر افراد دیکھ کر حیرت ہوئی جس میں اضافہ اس وقت ہوا جب رات کے دھندلكے میں ٹوئٹر کا آفس دیکھا۔
پیلی روشنی میں اس کا نیلا سا بورڈ جامنی سا نظر آ رہا تھا، لیکن نظر اس کے ٹھیک سامنے چوراہا نما جگہ پر بار بار ٹک رہی تھی جہاں کچھ ایسی ٹراليوں والے رات کاٹنے کے لیے، اپنے اپنے کونے تلاش کرنے جمع ہو رہے تھے۔
وہاں سے اٹھتا گانجے کا دھواں اور پیشاب کی بدبو کسی تیسری دنیا کے شہر کی یاد دلا رہی تھی۔

ایک بار دل چاہا وہ تصاویر لوں، ان میں سے کچھ لوگوں سے باتیں کروں۔ ساتھی کیمرا مین نے کہا: ’رات بھر کے لیے ہی سہی، کھلے آسمان کے نیچے ہی سہی لیکن یہ ان کا گھر ہے۔ کیا ہمیں اچھا لگے گا کہ کوئی انجان ہمارے گھر میں گھس آئے اور ہم جس حال میں بھی ہوں ہماری تصویر لے؟‘
بات میں دم تھا لیکن جو سوال مجھے پریشان کر رہا تھا وہ یہ کہ گوگل اور فیس بک جیسی بڑی بڑی ٹیكنالوجي کمپنیاں دنیا بھر میں خوشحالی پھیلانے کی بات کر رہی ہیں اور جو مارک زكربرگ ہزاروں میل دور دہلی سے چار گھنٹے کے فاصلے پر آباد چندولی شہر کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعہ 21ویں صدی کا شہر بنانے کی بات کر رہے ہیں ان کی نظر اپنے اس شہر پر کیوں نہیں پڑتی؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سٹارٹ اپ کمپنی میں کام کرنے والے ایک دوست سے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ ان میں سے بہت سارے لوگ کافی حد تک ان بڑی بڑی کمپنیوں کی کامیابی کی ہی قیمت چکا رہے ہیں۔
ڈالر کی برسات نے ہر چیز مہنگی کر دی ہے اور سب سے زیادہ مہنگی ہے چھت۔ پورے ملک میں کرایہ جس تیزی سے بڑھا ہے، سان فرانسسکو میں اس میں اس سے تین گنا زیادہ رفتار سے اضافہ ہوا ہے۔
کئی بڑی بڑی کمپنیاں شہر سے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہیں لیکن وہاں کام کرنے والے بہت سارے لوگ اسی شہر میں رہنا پسند کرتے ہیں اور ہر چیز کی منھ مانگی قیمت دینے کو تیار رہتے ہیں۔

کمپنیوں کی ایئركنڈيشنڈ اور وائی فائي انٹرنیٹ سے لیس آرام دہ بسیں انھیں گھر سے آفس لے جاتی ہیں اور پھر شام کو چھوڑ جاتی ہیں۔
گذشتہ سال تو سان فرانسسکو کے عام لوگوں نے اپنا غصہ گوگل کی بسوں پر اتارا، ان کے شیشے توڑے، انھیں گھنٹوں روکے رکھا اور نعرے لگائے کہ ’گوگل گو بیک۔‘
ان کا مطالبہ تھا کہ وہاں کام کرنے والے لوگ وہیں رہیں کیونکہ ان کی وجہ سے اس شہر کے نچلے طبقے کی زندگی دوبھر ہو رہی ہے۔
تین سال پہلے شہر کے ایک پسماندہ علاقے کی ترقی کے لیے بڑی کمپنیوں کو ٹیکس میں نرمی دینے کی پیشکش ہوئی اگر وہ ان علاقوں میں اپنا دفتر لے آئیں۔
ٹوئٹر نے اسی پیشکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنا دفتر بنایا ہے۔ علاقے میں ترقی ہو رہی ہے لیکن جو پسماندہ تھے وہ سڑکوں پر آ رہے ہیں یا شہر چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
صحیح کون ہے، غلط کون یہ طے کر پانا انتہائی مشکل لگتا ہے۔
اسی شہر اور اس کے ارد گرد کی ہوا میں انٹرنیٹ اور ٹیكنالوجي کے پیروکار دنیا کے سات ارب سے زیادہ لوگوں کو جوڑنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن وہی کامیابی لوگوں کو جوڑنے کی جگہ توڑ بھی رہی ہے، اور یہ احساس کہیں دب سا گیا ہے۔







