نئی نہرِ سویز، نئے مصر کی امید

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مصر میں شاید چند ہی چیزیوں کی قومی افتخار اور معاشی استحکام کے طور پر علامتی حیثیت نہرِ سویز سے زیادہ ہو۔
ملک کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے فوجی صدر عبدالفتح السیسی ایک اور نہر تعمیر کر رہے ہیں۔
انھوں نے گذشتہ سال اگست میں ایک اور نہر کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور مصر کے فوجی صدر نے اسے خوشحالی کی نئی نہر قرار دیا تھا۔
یہ کوئی سہل کام ثابت نہیں ہوا۔
گذشتہ سال ستمبر میں کھدائی کے دوران پانی بھر گیا۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ ہوا کہ یادگاری ٹکٹوں پر سات ہزار میل دور پاناما نہر کی تصویر چھپ گئی۔
اس کے بعد سے نہر پر تعمیراتی کام کی تیز رفتاری سے جاری ہے اور رات دن کام ہو رہا ہے۔
اصلی سویز نہر کا افتتاح 1869 میں ہوا تھا اور اسے مکمل ہونے میں دس برس کا عرصہ لگا تھا۔
صدر السیسی نے اعلان کیا ہے کہ نئی نہر سویز کو ایک برس کے عرصے میں مکمل کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر کےحکام کا کہنا ہے کہ نئی نہر کی تعمیر کو مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا اور اس سال اگست کے شروع میں اس سے پہلا بحری جہاز گزرے گا۔
سویز نہر بحیرۂ احمر کو بحر اوقیانوس سے ملاتی ہے اور یہ یورپ سے ایشیا کو ملانے والی تیز ترین آبی گزرہ گاہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس آبی گزرہ گاہ کے ذریعے دنیا کا سات فیصد تجارت سامان گزرتا ہے اور یہ مصر کے لیے زرمبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہے۔
نئی نہر کے تعمیر ہونے سے کئی حصوں میں دو طرفہ آمدورفت ممکن ہو جائی گی، جس سے جہازوں کے انتظار کا وقت کم ہو جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سے موجودہ گزر گاہ کی صلاحیت دگنی ہو جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں دس سال سے کم عرصے میں تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اس وقت مصر کو 5.3 ارب ڈالر سالانہ کی آمدن ہوتی ہے جو ایک اندازے کے مطابق بڑھ کر سنہ 2023 تک 13 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
مصر نئی نہر کے ساتھ ساتھ اس کے کناروں پر ایک ’شپنگ اور لاجسٹک کوریڈور‘ بھی تعمیر کر رہا ہے۔
حکام اسے مصری قوم کا ایک بڑا خواب قرار دے رہے ہیں اور مصر کی قوم نے اسے دعوے کو قبول کر لیا ہے۔
مصر کے عوام نے اس نئے منصوبے میں آٹھ دن کے اندر ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
مصر کی نہر سویز اتھارٹی کے سربراہ آدم محب مامیش نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ مصر کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہو گا۔
انھوں نے نہر کے کنارے کھڑے ہو کر کہا کہ قوم کی تاریخ میں تین مشکل ترین برسوں کے بعد وہ ایک نئے مصر کی تعمیر کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ہمارے آبا و اجداد نے نہر سویز کھودی تھی اور ہم نئی نہر کھود رہے ہیں، اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے، اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے لیے اور پوری دنیا کے لیے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سویز نہر سنہ 1956 سے مصر کے قومی افتخار کی علامت بنی ہوئی ہے جب صدر جمال عبدالناصر نے برطانیہ اور فرانس سے لے کر اسے قومیا لیا تھا اور جس کے بعد ان دونوں ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا تھا۔
اس نہر پر تنازع اس کے بعد سنہ 1968 اور سنہ 1973 میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کا باعث بنا۔
آدم مامیش نے کہا کہ نئی نہر نئی جنگ کا باعث بنے گی جو ترقی کی جنگ ہو گی۔
نہر فوج کے سخت پہرے میں تعمیر کی جا رہی ہے اور اس تک رسائی نہیں دی جاتی۔ فوج کی انجینیئرنگ کور کھدائی کی نگرانی کر رہی ہے۔
چند ہفتے قبل ایک پل کے گر جانے کا حادثہ پیش آیا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں کوئی نقصان نہیں ہوا اور تعمیراتی کام معمول کے مطابق جاری ہے۔
وزرا کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مصر کی بین الاقوامی ساکھ کا سوال ہے۔
سرمایہ کاری کے وزیر اشرف سلمان کا کہنا تھا یہ اعتماد بحال کرنے میں بہت اہم ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس سے مصر ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی نقشے پر اہم ملک کے طور پر ابھرے گا اور اس سے ظاہر ہو گا کہ مصر پرعزم ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بعض بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ مکمل ہونے میں کم از کم پانچ سال لے گا۔ مصری وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کو ایک برس میں مکمل کرنا مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔
کچھ ناقدین کو منصوبے کی مدت پر شک ہے اور کچھ کو اس سے حاصل ہونے والے متوقع مالی وسائل کے بارے میں یقین نہیں۔

کچھ کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ کسی دوسری جگہ استعمال ہو سکتا تھا۔
دفاعی اعتبار سے اہم اس آبی گزر گاہ کو صحرائے سینا میں موجود شدت پسندوں سے ممکنہ خطرے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ نہر امریکی جنگی جہاز کے بھی زیرِ استعمال رہتی ہے۔
شدت پسندوں نے سنہ 2013 میں ایک کنٹینر کو راکٹ سے داغے جانے والے گرینیڈ سے نشانہ بنایا تھا۔
آدم مامیش نے اسے ایک تنہا واقعہ قرار دیا۔
یہ منصوبہ سب سے زیادہ موجودہ فوجی صدر کے لیے اہم ہے کیونکہ اگر یہ مطلوبہ معاشی اہداف حاصل نہیں کرتا اور روز گار کے نئے مواقع پیدا نہیں کرتا تو ملک میں پائی جانے والی عوامی بے چینی کسی بھی وقت دوبارہ سطح پر آ سکتی ہے۔







