سعودی بادشاہ سلمان اپنے پیشرو کی پالیسیاں برقرار رکھیں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سعودی عرب کے بادشاہ سلمان نے بادشاہت سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پیشرو کی پالیسیاں برقرار رکھیں گے۔
سعودی عرب بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز 90 برس کی عمر میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب انتقال کر گئے تھے اور ان کی جگہ ان کے 79 سالہ سوتیلے بھائی سلمان نے بادشاہت سنبھالی ہے۔
<link type="page"><caption> ’قدامت پسند گھرانے کا نسبتاً اصلاح پسند حکمران‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/01/150123_king_abdullah_obituary_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> سعودی شہزادوں میں بادشاہت پر جھگڑا ہو سکتا ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/11/141118_saudi_princes_tussle_sq" platform="highweb"/></link>
شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دو برس قبل شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔ شاہ عبداللہ کے ایک اور سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن کو نیا ولی عہد بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق نئے بادشاہ نے شاہی خاندان کی وفادار کونسل سے کہا ہے کہ وہ شہزادہ مقرن کو ولی عہد مقرر ہونے کی توثیق کرے۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں شاہ سلمان نے کہا کہ ’ہم ان صحیح پالیسیوں پر کاربند رہیں گے جو سعودی عرب نے اپنے قیام کے بعد سے اختیار کر رکھی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
شاہ عبداللہ کو جمعہ کی نماز کے بعد ریاض میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف، مصر کے وزیر اعظم ابراہیم ملہب، سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان موجود تھے۔
جدہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سلویا سمتھ کا کہنا ہے کہ شہر میں گلیاں اور سڑکیں سنساں تھیں اور لوگوں معمول کے مطابق جمعے کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجدوں کا رخ کر رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر میں فضا سوگوار تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک بھر میں لوگ شاہ عبداللہ کی وفات پرسوگوار تھے، انھیں ایک اچھے بادشاہ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
جدہ کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ گو شاہ عبداللہ کافی عمر رسیدہ تھے اورایک عرصے سے علیل تھے لیکن پھر بھی ان کی وفات کی خبر تکلیف دہ ہے۔
ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ ان کی وفات سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قریبی رشتہ دار انتقال کر گیا ہو۔
عبداللہ، سلمان اور مقرن تینوں اب سعود کے نام سے مشہور مرحوم شاہ عبدالعزیز کے بیٹے ہیں جن کا انتقال 1953 میں ہوا تھا۔
شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالتے ہی سعودی عرب کے وزیر داخلہ پرنس محمد بن نائف کو نائب ولی عہد اور اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ملک کا نیا وزیر دفاع مقرر کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے تیل، خزانہ اور خارجہ امور سمیت دیگر وزارتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
وہابی فرقے کی مذہبی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شاہ عبداللہ کو جمعے کی نماز کے بعد ایک بے نشان قبر میں دفنایا گیا۔
سعودی عرب کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ، جو زندگی اور موت کو خدا کی اطاعت قرار دیتی ہے، کسی قسم کے قومی سوگ کی اجازت نہیں دیتی۔
شاہ عبداللہ کئی ہفتے سے علیل تھے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے انھیں کئی روز سے ٹیوب کے ذریعے سانس دلایا جا رہا تھا۔
سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل نے شاہ عبداللہ کے انتقال کی خبر نشر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات مقامی وقت کے مطابق ایک بجے چل بسے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کے انتقال پر سعود خاندان کے تمام افراد اور قوم غمزدہ ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف سمیت عالمی رہنماؤں نے سعودی شاہ کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر اوباما نے شاہ عبداللہ کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے اُن کی خدمات کو سراہا جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ قیام امن کے لیے شاہ عبداللہ کی کوششوں کی وجہ سے انھیں ہمشہ یاد رکھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شاہ عبداللہ نو برس سے زیادہ عرصے تک سعودی عرب کے بادشاہ رہے۔ انھوں نے ملک کی سربراہی سنہ 2005 میں اپنے ایک اور سوتیلے بھائی شاہ فہد بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سنبھالی تھی۔
انھیں سعودی عرب میں قدرے اعتدال پسند حکمران تصور کیا جاتا تھا اور ان کے دور میں میڈیا کو حکومت پر کسی حد تک تنقید کرنے کی اجازت تھی۔
انھوں نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ زیادہ خواتین کو کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
ایک لمبے عرصے سے شاہ عبداللہ کے منظر عام پر نہ آنے سے سوشل میڈیا پر گذشتہ سال سے ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں۔
کمر میں تکلیف کے باعث ان کے دو آپریشن ہو چکے تھے جن میں 13 گھنٹے کا ایک طویل آپریشن بھی شامل ہے۔ 2010 میں وہ تین ماہ تک امریکہ میں بھی زیر علاج رہے تھے۔
شاہ عبداللہ اگست 1924 کو ریاض میں پیدا ہوئے تھے اور وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے 37 بیٹوں میں سے 13ویں نمبر پر تھے۔
ان کی جگہ لینے والے سعودی عرب کے نئے شاہ سلمان سعودی عرب کے بانی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے ان سات بیٹوں میں سے دو ہیں جنھیں ’سدیری سات‘ کہا جاتا تھا۔
انھیں یہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ سب ابن سعود کی سب سے زیادہ چہیتی اہلیہ حصہ السدیری کے بطن سے پیدا ہوئے۔
نئے سعودی شاہ سلمان کو ذہنی انحطاط کا مرض ڈیمینشیا لاحق ہے تاہم شاہ عبداللہ کی انتہائی خراب صحت کے باعث گذشتہ کچھ عرصے سے وہی مختلف تقریبات میں ان کی نمائندگی کر رہے تھے۔







