بودھ بھکشو کے غیراخلاقی بیان کی مذمت کا مطالبہ

برما میں 2011 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بودھ قوم پرستوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبرما میں 2011 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بودھ قوم پرستوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے

اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے ادارے کے سربراہ نے برما سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک قوم پرست بودھ بھکشو کے اس بیان کی مذمت کرے جس میں تنظیم کی ایک خاتون افسر کے بارے میں غیراخلاقی زبان استعمال کی گئی ہے۔

زید رعد الحسین کا کہنا ہے کہ اشین وراتھو نامی بھکشو کا تبصرہ ’نفرت پر اکسانے‘ کے مترادف ہے۔

اشین نے روہنجیا مسلمانوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لیےگذشتہ ہفتے برما میں آنے والی جنوبی کوریائی خاتون اہلکار یانگہی لی کو ’کتیا‘ اور ’طوائف‘ کہا تھا۔

وراتھو مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے معاملات میں تقریباً ایک دہائی تک جیل میں رہے ہیں۔

وہ 969 نامی تحریک کے رہنما ہیں جس کا موقف ہے کہ برما کو صرف بودھوں کا ملک قرار دیا جانا چاہیے اور مسلمانوں پر پابندیاں لگا کر ان کا مقاطعہ کر دینا چاہیے۔

زید رعد الحسین نے بیان کی زبان کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں برما کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ متفقہ طور پر اس ذاتی حملے سمیت نفرت پر اکسانے کی تمام اشکال کی مذمت کریں۔‘

برما میں 2011 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بودھ قوم پرستوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

2012 میں برما میں رکھائن کے علاقے میں بودھ مسلم فسادات میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے جن میں سے اکثریت کا تعلق روہنجیا مسلمانوں سے تھا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ روہنجیا مسلمان مظالم اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں اور گذشتہ ہفتے اس نے برما سے ان افراد کو شہریت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دورۂ برما کے موقع پر یانگہی لی نے کہا تھا کہ روہنجیا پناہ گزین کیمپوں میں انتہائی کس مپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور انھیں باقاعدہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

انھوں نے قوم پرست بودھوں کی جانب سے پیش کیے گئے اس مسودۂ قانون کی مذمت بھی کی تھی جس میں بین المذاہب شادیوں اور مذہب کی تبدیلی جیسے معاملات پر پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے۔

برما کے مقامی میڈیا کے مطابق اشین وراتھو نے گذشتہ جمعے کو ایک ریلی سے خطاب میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے اس کی نمائندہ کے خلاف غیراخلاقی زبان استعمال کی تھی۔

بدھ کو برما کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس تقریر کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔