یورو زون کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے 11 سو ارب یورو

یورپ زون کی سنگل کرنسی یورو کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں نمایاں کمی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیورپ زون کی سنگل کرنسی یورو کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں نمایاں کمی آئی ہے

یورپ کے مرکزی بینک نے یورو زون کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے کم از کم 11 سو ارب یورو کا سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی یورپی بینک آئندہ سال ستمبر تک یورو زون کے 19 سنگل کرنسی ممالک کے ہر بینک سے ہر ماہ 60 ارب یورو کے بانڈز خریدے گا۔

اس فیصلے کا مقصد بینکوں کو زیادہ سرمایہ فراہم کرنا ہے تاکہ شرح سود کو کم رکھا جا سکے اور اس قرض لینے اور انھیں خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکے گی۔

اس وقت یورو کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 11 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور رواں سال اب تک ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں چھ فیصد کمی آ چکی ہے۔

یورپ کے مرکزی بینک ای سی بی کے صدر ماریو دراغئی کے مطابق مارچ میں سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس پروگرام کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک مہنگائی کی شرح پائیدار حد تک قابو میں نہیں آتی ہے۔

ای سی بی نے یورو زون میں افراطِ زر کو دو فیصد تک رکھنے کا عزم کیا ہے جبکہ شرح سود کو صفر اعشاریہ صفر پانچ تک رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اس پروگرام کے نتیجے میں اٹلی، سپین اور پرتگال سمیت مالی بحران سے دوچار ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

ای سی بی کے اس اعلان کے بعد یورپی بازارِ حصص میں بہتری آئی ہے

ماریو دراغئی نے مزید کہا ہے کہ مرکزی بینک نے اپنے طور پر سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام اس وجہ سے شروع کیا ہے کیونکہ کم افراط زر کے طویل عرصے تک رہنے کی وجہ سے خطرہ بڑھ گیا تھا اور اس سے نمٹنا ضروری ہے۔

ای سی بی کے اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مرکزی بینک اصل میں خود بانڈز نہیں خریدے گا

،تصویر کا ذریعہreuters

،تصویر کا کیپشنای سی بی کے اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مرکزی بینک اصل میں خود بانڈز نہیں خریدے گا

انھوں نے کہا کہ ای سی بی کے نگراں بورڈ میں اکثریت نے بانڈز خریدنے کے پروگرام کی حمایت کی ہے اور اسی وجہ سے اس فیصلے پر رائے شماری کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سے پہلے مرکزی بینک ایسے اقدامات سے گریز کرتا رہا ہے تاہم جولائی 2012 میں ماریو دراغئی نے کہا تھا کہ یورو زون میں مالی استحکام کو قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے تیار رہیں گے۔

ای سی بی کے اعلان سے پہلے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ مرکزی بینک اصل میں خود بانڈز نہیں خریدے گا بلکہ ممبر ممالک کے مرکزی بینکوں اور حکومتوں سے بانڈ خریدنے کو کہے گا۔

قرضوں پر شرح سود میں کمی سے بینکوں کی قرض دینے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور اس سے یورو زون کے کاروبار اور گاہک زیادہ خرچ کر سکیں گے۔

اس سے پہلے امریکہ نے بھی سال 2008 سے 2014 تک یہ ہی حکمت عملی اپنائی تھی اور اس سے فائدہ بھی ہوا تھا۔

ای سی بی کے صدر ماریو دراغئی کے مطابق مارچ میں سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنای سی بی کے صدر ماریو دراغئی کے مطابق مارچ میں سرمایہ فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا جائے گا

اس کے علاوہ برطانیہ اور جاپان بھی بانڈز خریدنے کے قابل ذکر پروگرام چلا رہے ہیں۔

ماہر معیشت ایلسٹر ونٹر نے ای سی بی کے اعلان پر کہا ہے کہ’معاشی لحاظ سے یہ غیر ضروری ہے تاہم کم از کم اس سے مارکیٹس یورو فروخت کرنے اور بینکوں کے عام حصص خریدنے اور کمزور بانڈز خریدنے سے لطف اندروز ہوں گے۔‘

گذشتہ دنوں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے باوجود 2015 اور 2016 کے لیے یورپ سمیت عالمی معیشت کی بڑھوتری کے اندازوں میں کمی کر دی تھی۔

رپورٹ میں یورپ میں اقتصادی بحالی کا عمل جاری رہنے کی پیشنگوئی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ رواں برس یورو استعمال کرنے والے ممالک میں شرحِ ترقی ایک اعشاریہ دو فیصد اور آنے والے برس میں ایک اعشاریہ چار فیصد رہے گی۔