ٹی وی شو جہاں ’بمبار‘ متاثرین سے ملتا ہے

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, رامی رحائم
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بغداد
عراق کے دارالحکومت بغداد کے کرادہ ڈسٹرکٹ میں جہاں حال ہی میں بم حملوں کا ایک سلسلہ دیکھنے میں آیا تھا وہاں ٹیلی ویژن کا عملہ، سکیورٹی کا دستہ اور دو مجرم ایک ساتھ دیکھے گئے۔
ان کے وہاں اکٹھے ہونے کی وجہ یہ تھی کہ دونوں مجرم کیمرے کے سامنے بتائیں کہ انھوں نے اس علاقے میں تباہی کیسے پھیلائی تھی۔
ایسا ہفتہ وار پروگرام ’ان دی گرِپ آف دی لا‘ کے لیے کیا جا رہا تھا جو قومی ٹی وی العراقیہ وزارتِ داخلہ کے تعاون کے ساتھ بنا رہا ہے۔ دونوں مجرموں نے حملوں کا اعتراف کیا ہے۔
جیسے ہی قافلہ حملے کے ایک مقام پر پہنچا تو مکانوں کی بالکونیوں میں کھڑے لوگوں نے مجرموں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔
متاثرین کے ورثا مجرموں کے پاس جاتے اور انھیں گالیاں نکالتے، جو چپ چاپ یہ سنتے رہے۔ جب وہ بہت زیادہ نزدیک ہو جاتے تو پولیس انھیں آرام کے ساتھ پیچھے دھکیل دیتی۔
اس پروگرام میں ابو جاسم جیسے قیدیوں کا انٹرویو بھی دکھایا گیا ہے جو داعش کے حملوں میں ملوث تھے۔
وہ نروس نظر آتے ہیں اور حملوں میں اپنا کردار بتاتے سر جھکائے رکھتے ہیں۔ آخر میں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا انھیں اپنے کیے پر پچھتاوا ہے تو وہ کہتے ہیں ’ہاں جناب‘۔ انٹرویو کرنے والا مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں قسم کھاتا ہوں کہ آپ نے مجھے یقین دلا دیا ہے۔‘
اس پروگرام میں دکھائے گئے انٹرویوز میں کافی تفصیل بیان کی گئی ہے لیکن ان سے داعش کے نظریے اور کشش کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے شو کے پریزینٹر احمد حسن سے پوچھا کہ ان کا ان انٹرویوز کے متعلق کیا خیال ہے؟
انھوں نے کہا کہ ’سامنے آ کر لڑنے والے سادہ لوح ہیں اور ان کو بہت کم آ گہی اور علم ہے۔ انھوں نے جو بے گناہ لوگوں کا خون بہایا ہے جیل میں قید کے دوران وہ اس کے متعلق سوچتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ داعش نے ان کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
حسن نے کہا کہ ان کا شو دس لاکھ کے قریب لوگ دیکھتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ ان کا شو شیعہ اکثریت کے علاقوں میں زیادہ مقبول ہے، جیسا کہ کرادہ جہاں کئی مرتبہ حملے ہو چکے ہیں اور جہاں موڈ بدلہ لینے کا ہے۔
حال ہی میں ہونے والے ایک حملے کے دوران تباہ ہونے والے ریسٹورنٹ کے مالک عمار کہتے ہیں کہ ’یہ ایک اچھا پروگرام ہے لیکن انھیں یا تو دہشت گردوں کو جائے وقوع پر گولی مار دینی چاہیے یا پھر وہ اسے شہید کے خاندان کے حوالے کر دیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل ٹوٹے ہیں۔‘
ادھر سنی علاقوں میں اس پروگرام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
بغداد کے احمدیہ ڈسٹرکٹ میں ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ من گھڑت ہے۔‘
’اگر کسی لڑکے کا کسی پولیس والے سے جھگڑا ہو جاتا ہے تو اسے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اس سے جرم بھی منوا لیا جاتا ہے۔ ایسا ہمارے رشتہ داروں کے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔‘
ان کا خیال ہے کہ شو میں دکھائے جانے والے اکثر افراد کا حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ داعش کے جنگجو ہوتے ہیں۔‘
’داعش آمنے سامنے لڑتے ہیں اور اگر وہ انھیں پکڑ لیں تو مار دیتے ہیں۔ وہ انھیں عدالت میں نہیں لاتے۔ عدالت صرف معصوم لوگوں کے لیے ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ
احمدیہ میں اکثر لوگ ان کی رائے سے متفق ہیں۔
دو جنوری کو ایک نوجوان لڑکی کیمرہ دیکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ 2007 میں ’احمدیہ اویوکننگ‘ (Ahmediya Awakening) نامی ایک سنی ملیشیا گروہ نے جو کہ امریکہ اور عراقی حکومت کا اتحادی ہے ان کے بھائی کو گرفتار کر لیا تھا۔
اس پر قتل اور القاعدہ کی رکنیت کا الزام لگایا گیا اور اذیت دے کر اس سے اس کا اعتراف کروایا گیا اور سزائے موت سنا دی گئی جو بعد میں معطل کر دی گئی۔
دو سال سے زیادہ عرصہ پہلے انھیں جیل میں کہیں غائب کر دیا گیا۔
انسانی حقوق کے وکیل کہتے ہیں کہ ’آپ احمدیہ میں کسی دروازے پر بھی دستک دیں آپ کو اس طرح کی ہی کہانی سننے کو ملے گی۔‘
یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اس پروگرام کے متعلق متضاد ردِ عمل ملتا ہے۔ 2003 میں امریکی سربراہی میں ہونے والے حملے کے بعد عراقیوں کو قتلِ عام کے مختلف تجربات سے گزرنا پڑا ہے۔
سنی مسلک کے لوگوں کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا جبکہ شیعہ علاقوں میں زیادہ تر عام شہریوں پر حملے ہوئے۔
پروگرام میں متواتر طاقت اور داعش پر یقینی فتح کا پیغام دہرایا جاتا ہے۔ کبھی کھلے عام اور کبھی ڈھکے چھپے لفظوں میں۔







