عرب بہار: کس کی بہار، کس کی خزاں

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, جان سمپسن
- عہدہ, نامہ نگار عالمی امور
عراق میں دولتِ اسلامیہ کی پٹائی ہو رہی ہے، شام میں صدر اسد حاوی ہو رہے ہیں، مصر ایک مرتبہ پھر فوج کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، اور لیبیا میں افراتفری کا راج ہے۔
کیا واقعی مشرق وسطیٰ میں ’عرب بہار‘ نامی کوئی چیز کبھی آئی تھی؟ یا نام نہاد عرب بہار اس خطے میں برسرِ اقتدار افراد اور گروہوں کے خلاف محض مظاہروں کا ایک سلسلہ تھا، ایسے مظاہرے جن میں کبھی ربط تھا اور کبھی نہیں؟
اگر مشرق وسطیٰ میں گذشتہ کچھ عرصے کے واقعات کا موازنہ سنہ 1989 میں وسطی اور مشرقی یورپ میں اشتراکیت کے تیز اور غیر خونریز زوال جیسی بین الاقوامی سیاسی تحریکوں سے کیا جائے تو ہمیں لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے واقعات سست تھے اور ان کا کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلا۔
لیکن اس کے باوجود ان واقعات میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔
یہ آج کی بات نہیں ہے، بلکہ جب جنوری سنہ 2011 میں ایک امریکی محقق کی ’عرب بہار‘ کی اصطلاح زبان زد عام ہو رہی تھی، اس وقت بھی یہ اصطلاح کچھ زیادہ موزوں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
بلکہ لگتا تھا کہ یہ اصطلاح محض ’تعلقاتِ عامہ‘ کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جس کے ذریعے مغربی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی اب مشرق وسطیٰ میں یہاں کی پرانی بدعنوان اشرافیہ کے خلاف عام لوگوں کی جانب سے ایک پرامن سیاسی جدو جہد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو نتیجہ خیز ہوگا۔
اس کے علاوہ اس اصطلاح سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ عوامی رد عمل کی اس لہر کے آگے پرانا نظام دھڑام سےگر جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ شروع شروع میں یہی دکھائی دے رہا تھا کہ عرب دنیا میں حالات اِسی جانب جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیونس کے قصبے صدی بزید میں سرکاری گماشتوں کے ناقابلِ برداشت ظلم اور جبر سے تنگ آ کر چھابڑی لگنے والے طارق محمد بزیزی کے اپنے آپ کو آگ لگا کر موت کو گلے لگانے کے چند دن کے اندر اندر ہی تنزانیہ کی حکومت گرنا شروع ہوگئی تھی۔
بزیزی کی موت کے محض ایک ماہ بعد ملک پر 23 سال تک حکمرانی کرنے والے مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی فرار ہو سعودی عرب چلے گئے۔
اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد الجزائر، اردن اور عمان کی حکومتوں نے بھی اعلان کر دیا کہ وہ بھی اپنے ہاں اصلاحات کرنے جا رہی ہیں، بلکہ اگر ضرورت پڑے تو حکومتیں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔
یمن میں علی عبداللہ صالح کا اتنا پیچھا کیا گیا کہ انھیں اقتدار چھوڑنا پڑ گیا۔
مصری ہلچل
قاہرہ کے ’تحریر سکوئر‘ میں ہونے والے مظاہروں نے اس خیال کو تقویت بخشی کہ مصر میں بھی شاید دیوارِ برلن گرنے جیسا کوئی واقعہ رونما ہونے والا ہے۔
صدر مبارک کو اقتدار سے نکال باہر کرنے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ لیکن ان سب کے باجود یہ امید کم ہو گئی کہ مصر میں سنہ 1989 کے اشراکیت کے زوال جیسا کوئی بڑا واقعہ پیش آئے گا۔

،تصویر کا ذریعہ
مصر میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے لوگوں نے اخوان المسلمون کو انتخابات میں فتح سے ہمکنار کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب اور ایک سیکیولر حکومت کے درمیان جو ایک نازک توازن پایا جاتا تھا وہ بھی ہاتھ سے چلا گیا۔
مصر میں سیکیولر نظریات کی محافظ وہ پولیس اور فوج جو صدر مبارک کی آخر تک حمایت کرتی رہی، انتخابات کے بعد مزید مضبوط ہو کر سامنے آئی۔
آخر کار پولیس اور فوج نے مل کر اخوان المسلمون کا تختہ الٹ دیا اور مصر کا رخ دوبارہ سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ مصر میں مذہبی اور سیکیولر، دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ ابھی تک جاری ہے۔
سنہ 1989 کے یورپ کے برعکس، عرب دنیا میں کوئی ایسا واحد، قدیم سیاسی نظریہ موجود نہیں تھا جس کا بوریہ بستر لپیٹنا ضروری ہو چکا ہو۔
یہ سچ ہے کہ تیونس سے لے کر یمن تک عوام اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ آزادی کی خواہش میں یکجا تھے۔
لیکن گذشتہ برسوں کی بے چینی اور افراتفری میں ہوا یہ کہ دو متضاد اصول آپس میں ٹکرا گئے: ایک جانب یہ نظریہ کہ ریاست کے معاملات میں سیکیولر نظریات کا دفاع ہر قیمت پر ضروری ہے، اور دوسری جانب لوگوں کی یہ خواہش ہے اسلام کے بنیادیں اصولوں کا نفاذ ضروری ہے۔
اس نظریاتی ٹکراؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بدمزگی میں اضافہ ہوا اور خطے میں تشدد بڑھ گیا۔ شام اور عراق میں دورِجدید کی سب سے زیادہ متشدد مذہبی تحریک دولتِ اسلامیہ کا عروج اسی ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔
شروع شروع میں بظاہر یہی دکھائی دیا کہ اس گروہ کی بربریت کام کر رہی ہے کیونکہ دولت اسلامیہ کے جنگجو اپنے مخالفین کو بے رحمی سے قتل کر کے ان کی لاشوں پر ناچتے رہے۔ لیکن بہت جلد ہی لوگوں پر واضح ہو گیا کہ دولتِ اسلامیہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے میں بھی کوئی عقلمندی نہیں ہے۔
اس خیال کے بعد سے دولتِ اسلامیہ کے دشمن زیادہ جذبے کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین پر موجود دولتِ اسلامیہ کے مخالفین کی مزاحمت میں ایک نئے جذبے اور فضا سے امریکی اور برطانوی طیاروں کی بمباری کی بدولت بازی پلٹنا شروع ہو گئی ہے۔
فائدہ کس کو ہوا؟ جہاں تک عرب بہار کا تعلق ہے تو اگر کوئی ایسی بہار آئی بھی تو تھی، لیکن اب اس بہار کو تھمے ہوئے بھی مدت ہو گئی ہے۔
فائدہ کس کو ہوا اور نقصان کس کے حصے میں آیا؟
قذافی کے خلاف شروع ہونے والے انقلاب اور اس کے بعد جاری رہنے والی مسلسل افراتفری نے لیبیا کو تباہ کر دیا ہے۔
مصر واپس جمود کے دور میں جا چکا ہے اور گذشتہ چند سالوں کے واقعات کی وجہ سے اس کی معیشت خوفناک حد تک تباہ ہو چکی ہے۔
شام میں انقلابیوں کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود بشارالاسد اپنی جگہ قائم ہیں۔
اگرچہ مغربی ممالک اس کا اقرار نہیں کریں گے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے بجائے اسد ہی ٹھیک ہیں۔
عراق بھی دولت اسلامیہ کے طوفان سے نکل آیا ہے، بلکہ لگتا ہے کہ عراق پر سنہ 2003 میں امریکہ اور برطانیہ کی چڑھائی سے شروع ہونے والے خوفناک واقعات کا سلسلہ دم توڑ چکا ہے اور وہاں جمہوریت نے بھی دم نہیں توڑا ہے۔
اردن میں سیاسی نظام کو جو خطرات درپیش تھے، ان کے باوجود اردن بھی اپنی جگہ پر قائم ہے۔
لبنان بھی ایک اکائی کی شکل میں زندہ ہے۔ الجزائر اور تنزانیہ میں بھی سکون ہو چکا ہے۔ اگر باہر سے دیکھیں تو اکثر پریشانی کا شکار رہنے والا ترکی بھی داغدار ہوئے بغیر مشکلات سے نکل آیا ہے۔
باقی دنیا نے کیا کھویا کیا پایا؟
بشارلاسد کو کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے خبردار کرنے والے صدر اوباما اس وقت کچھ نہیں کر سکے جب اسد نے واقعی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ وہی صدر اوباما اب تک اس ٹھپے سے پیچھا نہیں چھڑا سکے کہ وہ ایک کمزور اور فیصلہ نہ کر سکنے والے امریکی صدر ہیں۔
وہ برطانیہ جس کی پارلیمان نے اگست 2013 میں شام پر بمباری کے خلاف ووٹ دیا تھا، اب اس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ عالمی سطح پر اس کا مقام وہ نہیں رہا جو کبھی تھا۔
اگرچہ ایک سال بعد برطانوی پارلیمان نے دولتِ اسلامیہ پر بمباری کے حق میں ووٹ دیا، تاہم اس سے برطانیہ کے بارے میں عمومی رائے تبدیل نہیں ہوئی ہے۔
حال ہی میں ایک امریکی سفارت کار کا کہنا تھا: ’ساری عرب بہار ستیاناسی کا دور تھا، شروع سے آخر تک ستیاناسی۔‘
سفارت کار کی اس بات سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔







