ایران امریکی صحافی کے خلاف مقدمہ چلائے گا

جیسن رضایان کے پاس امریکہ اور ایران کی دوہری شہریت ہے اور انھیں ان کی بیوی اور دو ساتھیوں کے ہمراہ گذشتہ برس جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجیسن رضایان کے پاس امریکہ اور ایران کی دوہری شہریت ہے اور انھیں ان کی بیوی اور دو ساتھیوں کے ہمراہ گذشتہ برس جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا

ایران میں گذشتہ چھ ماہ سے قید امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے تعلق رکھنے والے صحافی جیسن رضایان کے خلاف غیر معینہ الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

ایران کے چیف پراسیکیوٹر عباس جعفری دولت آبادی نے سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کو بتایا کہ امریکی صحافی کا مقدمہ ایران کی انقلابی عدالت کو بھیج دیا گیا ہے۔

ادھر واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ جیسن رضایان کا مقدمہ انقلابی عدالت میں بھیجنا ’ان کی فوری رہائی کی جانب ایک قدم ہے۔‘

خیال رہے کہ جیسن رضایان کے پاس امریکہ اور ایران کی دوہری شہریت ہے اور انھیں ان کی اہلیہ اور دو ساتھیوں کے ہمراہ گذشتہ برس جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی صحافی کو گذشتہ برس دسمبر میں ایران کے دارالحکومت تہران کی ایک عدالت کے جج کے سامنے ان کے خلاف عائد کیے جانے والے سرکاری الزامات سنانے کے لیے پیش کیا گیا تھا اور اس موقع پر ان کی جانب سے پیش کی جانے والی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

ایران کی عدالت نے اس وقت بھی جیسن رضایان کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کو عام نہیں کیا تھا اور نہ ہی انھیں میڈیا میں شائع کیا گیا تھا۔

ایران میں بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں چیف پراسیکیوٹر عباس جعفری دولت آبادی کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی صحافی کا مقدمہ ایران کی انقلابی عدالت میں بھیج دیا گیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ رضایان کے خلاف دائر ہونے والی فرد جرم کے اس فقرے کا یہ معنی بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عدالت مقدمہ شروع کرنے سے پہلے چارج شیٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ چلانے یا اسے التوا میں رکھنے کا فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ ایران کی انقلابی عدالتیں زیادہ تر سکیورٹی معاملات کے حوالے سے مقدمات کو نمٹاتی ہیں۔