چارلی ایبڈو زندہ رہے گا: فرانسیسی صدر

پیرس میں لوگ چارلی ایبڈو کا تازہ شمارہ خریدنے کے لیے دکان کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیرس میں لوگ چارلی ایبڈو کا تازہ شمارہ خریدنے کے لیے دکان کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں

فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو کے نئے شمارے کی گھنٹوں کے اندر اندر فروخت کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ چارلی ایبڈو اور اس کی اقدار زندہ رہیں گی۔

انھوں نے کہا: ’چارلی ایبڈو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔‘

زبردست طلب کی وجہ سے رسالے کی دسیوں لاکھ اضافی کاپیاں چھاپی جا رہی ہیں۔

یہ رسالہ پیرس میں اس کے دفتر پر مسلمان بندوق برداروں کے حملے کے ایک ہفتے بعد شائع ہو رہا ہے۔ اس حملے میں 12 افراد رسالے کے دفتر میں اور پانچ دوسری جگہوں پر مارے گئے تھے۔

نئے رسالے نے اپنے سرورق پر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان برہم ہوئے ہیں۔

صدر اولاند نے تازہ شمارے کی اشاعت کے موقعے پر کہا: ’آپ لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں لیکن ان کی تصورات کو نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ رسالے نے ہلاکتوں کے بعد ’نیا جنم‘ لیا ہے۔

چارلی ایبڈو عام طور پر 60 ہزار چھپتا تھا لیکن حالیہ شمارہ 50 لاکھ کی تعداد میں شائع ہو گا۔

ایک اخبار فروش نے نوٹس لگایا ہے کہ چارلی ایبڈو ختم ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایک اخبار فروش نے نوٹس لگایا ہے کہ چارلی ایبڈو ختم ہو گیا ہے

اس رسالے کو ’سروائیورز اشو‘ کا نام دیا گیا ہے، اور یہ چھ زبانوں میں دستیاب ہو گا، جن میں انگریزی، عربی اور ترکی شامل ہیں۔ رسالے سے حاصل ہونے والی آمدن مقتولین کے خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔

خیال رہے کہ سات جنوری کو دو بھائیوں شریف کواشی اور سعید کواشی نے پیرس کے شمال مشرقی علاقے دامارٹن آں گوئل میں چارلی ایبڈو کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کی تھی جس سے چار کارٹون نگاروں کے علاوہ ميگزین کے مدیر سمیت چار صحافی مارے گئے تھے۔

اس حملے میں بچ جانے والے افراد نے تازہ شمارے پر فرانس کے روزنامہ لبریشن کے دفتر سے کام کیا۔

یمن میں القاعدہ نامی تنظیم نے ایک ویڈیو کے ذریعے اس حملے کی منصوبہ بندی اور اسے مالی امداد فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم اس نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

سعید کواشی کی بیوہ سمعیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں بالکل بھی علم نہیں تھا کہ ان کے خاوند انتہاپسندانہ خیالات کے حامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سعید نے حملے والے دن انھیں خدا حافظ کہا اور بتایا کہ وہ اپنے بیمار بھائی کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں۔

اس کے چار گھنٹے بعد چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملہ ہو گیا۔

چارلی ایبڈو کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کا ایک اور خاکہ شائع کرنے کے فیصلے پر عسکریت پسند تنظیموں نے دھمکیاں دی ہیں اور مسلم دنیا میں اس پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے کہا یہ کہ ایک ’انتہائی احمقانہ فعل ہے۔‘