چارلی ایبڈو کے اگلے شمارے میں پیغمبر اسلام کی عکاسی

،تصویر کا ذریعہAP
فرانس کے رسالے چارلي ایبڈو نے اپنے اگلے شمارے کے سرورق پر پیغمبر اسلام کا خاکہ شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کارٹون کے اوپر جلی حروف میں لکھا ہوگا ’سب کو معاف کیا گيا‘۔
یہ فیصلہ گذشتہ ہفتے رسالے پر ہونے والے حملے کے پیش نظر کیا گيا جس میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
تقسیم کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس رسالے کے اگلے شمارے کی 30 لاکھ کاپیاں شائع کریں گے جو کل سے مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔
عام طور پر اس رسالے کے ایک شمارے کی زیادہ سے زیادہ 60 ہزار کاپیاں شائع ہوتی ہیں مگر رسالے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بار پوری دنیا میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
ادھر فرانس کے اراکین پارلیمان حملے کے بعد پہلی بار یکجا ہو رہے ہیں جبکہ ایک دوسرے واقعے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی تدفین اسرائیل کے شہر یروشلم میں ہوگی جنھیں شدت پسندوں نے فرانس میں ہلاک کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
فرانس میں ہونے والے حملے کے بعد تقریبا دس ہزار فوج ملک بھر میں تعینات کی گئی ہے جبکہ اتوار کو دارالحکومت پیرس میں یونیٹی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں تقریبا 30 لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔
ادھر چارلی ایبڈو رسالے کا تازہ سرورق فرانس کے میڈیا میں شائع کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رسالے کے وکیل رچرڈ مالكا نے فرانسیسی ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’ہم لوگ شکست نہیں مانیں گے۔ میں چارلی ہوں کا مطلب ہے توہین کی آزادی کا حق۔‘
اس حملے میں بچ جانے والے افراد اس تازہ شمارے پر فرانس کے روزنامے لبریشن کے دفتر سے کام کر رہے ہیں۔ اس حملے میں چارلی ایبڈو کے پانچ کارٹونسٹ بشمول ميگزن کے مدیر ہلاک ہوئے تھے۔
چارلی ایبڈو کے ڈائریکٹر ایرک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تازہ شمارے کی تیاری چارلی ایبڈو سے وابستہ لوگ ہی کریں گے کیونکہ دوسرے کارٹونسٹوں کی تعاون کی پیشکش کو مسترد کر دیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ادھر چارلی ایبڈو سے وابستہ صحافی زینب الرضوی کہتی ہے کہ حملے سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔
’ہم ہر ہفتے اپنے رسالے کا اجرا جاری رکھیں گے۔ بلاشبہ یہ پہلے جیسا نہیں ہوگا۔ ہم اب تک نہیں جانتے کہ ہم اُن آٹھ ساتھیوں کے بغیر کیسے کام کریں گے جنھیں ہم نے اس حملے میں کھودیا۔ ہمارے آٹھ اہم آدمی، ہمارے آٹھ دوست۔‘
انھوں نے کہا کہ اگلے شمارے میں حملے کے بارے میں ہی تحریریں ہوں گی۔
صحافی زینب الرضوی نے کہا ’ظاہر ہے ہمارے لیے کسی اور چیز پر لکھنا ذرا مشکل ہوگا کیونکہ ہم اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ اس واقعے نے ہم سب کو ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر توڑ کے رکھ دیا ہے ۔‘
فرانسیسی پولیس چارلی ایبڈو اور پیرس کی یہودی مارکیٹ پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے باقی ساتھیوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پورے ملک میں سکیورٹی انتہائی الرٹ ہے۔







