چین میں آلودگی پر ریکارڈ جرمانہ

،تصویر کا ذریعہReuters
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین کے مشرقی صوبے جیانگسو کی ہائی کورٹ نے 6 اداروں کو دریاؤں کو آلودہ کرنے کی وجہ سے160 ملین یوآن کا جرمانہ کیا ہے۔
اخباری ادارے ژنہوا کا کہنا ہے کے یہ آلودگی کے خلاف عوامی مفاد کی قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے چین کی تاریخ کا سب سے برا جرمانہ ہے۔
اداروں کو اگست میں ٹیزھوں کے دریاؤں میں 25 ہزار ٹن کیمیائی فضلہ پھینکنے کا مجرم قرار دیا گیا۔
چین کی تیز رفتار سے اقتصادی ترقی نے بڑے پیمانے پر ماحول کو نقصان پہنچایا ہے۔
ملک میں آلودگی سے متعلق مقامی احتجاج بھی بڑھتا جا رہا ہے جس سے ملک پر بین الاقوامی دباؤ بھی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو صاف رکھے۔
حکومت کا کہنا ہے کے چین کے70 فیصد دریا آلودہ ہیں۔
بیجنگ سے بی بی سی کے نمائندہ مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کے ماحولیاتی ماہرین اس جرمانے کا خیر مقدم کریں گے اور حکومت سے یہ امید بھی رکھیں گے کہ وہ آلودگی پھیلانے والوں سے سختی سے پیش آئیں۔
ژنہوا کے مطابق ٹیزھوں کے مقامی ادارے نے آلودگی میں ملوث 14 افراد کو قید کی سزا سنائی جبکہ ماحولیاتی فضلہ میں ملوث اداروں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ژنہوا کے صوبائی ہائر پیپلز کورٹ نے یہ اپیل مسترد کر دی اور ملوث اداروں کو یہ حکم دیا ہے کے وہ جرمانے کی ادائیگی ماحولیاتی تحفظ کے فنڈ کو 30 دن کے اندر ادا کریں۔







