یونان:امدادی آپریشن ختم، اطالوی کشتی سے دس لاشیں برآمد

اطالوی بحریہ کا کہنا ہے کہ اب صرف کشتی کا کپتان اور عملے کے چار دیگر ارکان کشتی پر بچے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP. Italian Navy

،تصویر کا کیپشناطالوی بحریہ کا کہنا ہے کہ اب صرف کشتی کا کپتان اور عملے کے چار دیگر ارکان کشتی پر بچے ہیں۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ یونانی جزیرے کورفو کے قریب اطالوی مسافر بردار اطالوی کشتی میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دس تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کے مطابق ایک شخص کشتی سے باہر نکلنے کی کوشش کے دوران مارا گیا جبکہ نو افراد کی لاشیں کشتی کے اندر سے ملی ہیں۔

سمندر میں تیز جھکڑوں اور خراب موسم میں پھنسی ہوئی کشتی سے نہایت مشکل کارروائی کے بعد امدادی کارکنوں نے 400 سے زائد لوگوں کو بحفاظت نکالا ہے۔

حکام کے مطابق یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے کہ اتوار کو اس کشتی کے عرشے پر آگ کیسی لگی تھی اور اب بھی کوئی فرد لاپتہ ہے کہ نہیں۔

ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ یونان کے شہر پتراس سے اٹلی کے ساحلی شہر انکونا جانے والی اس کشتی پر 478 افراد سوار تھے تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ وہ مسافروں کی اصل تعداد کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

آگ لگنے کے بعد سے طوفانی ہواؤں کے باوجود پیر کی صبح سے ہی ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور یہ آپریشن شام گئے مکمل ہوا۔

مسافروں کا کہنا تھا کہ آگ عرشے پر لگی اور پھر دوسرے حصوں تک پھیل گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمسافروں کا کہنا تھا کہ آگ عرشے پر لگی اور پھر دوسرے حصوں تک پھیل گئی

اس سے قبل یونانی حکام نے کہا تھا کہ اتوار کو کشتی کے عرشے پر آگ لگ جانے کے بعد پیر کی صبح تک اس پر سوار کل 478 میں سے 356 افراد کو پہلے ہی نکالا جا چکا تھا۔

نورمن اٹلانٹک سے نکالے جانے والے مسافروں کا کہنا تھا کہ آگ عرشے پر لگی اور پھر دوسرے حصوں تک پھیل گئی۔ مسافروں نے بتایا کہ اس کے بعد افراتفری شروع ہو گئی اور انھیں عرشے پر یخ بستہ ہواؤں میں امدادی کارروائی کا انتظار کرنا پڑا۔

کشتی کے ایک خانساماں کی بیوی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انھوں نے اپنے خاوند کو فون پر کہتے سنا، ’میں سانس نہیں لے سکتا۔ ہم سب چوہوں کی طرح جل مریں گے۔ خدایا ہمیں بچا۔‘

شدید موسمی مشکلات کے باوجود اندھیرے میں دیکھنے والے آلات لگے ہوئے امدادی ہیلی کاپٹر ساری رات کشتی کے مسافروں کو بچانے میں مصروف رہے۔

اطالوی فضائہ کے ہیلی کاپٹر پائلٹ میجر انتونیو لینیو نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ کشی سے اٹھنے والے شدید دھویں کی وجہ سے ان کے کاک پٹ میں سانس لینا محال ہو گیا تھا جس کے باعت امدادی کارروائی بہت مشکل ہو گئی تھی۔

ہیلی کاپٹر کی مدد سے ایک ایک مسافر کو باری باری کشتی سے اٹھانا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنہیلی کاپٹر کی مدد سے ایک ایک مسافر کو باری باری کشتی سے اٹھانا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے ایک ایک مسافر کو باری باری کشتی سے اٹھانا پڑا۔

کشی سے نکالے جانے والے زیادہ تر مسافروں کو قریبی بحری جہازوں پر اتارا گیا، تاہم کچھ کو سیدھے ہسپتال پہنچایا گیا۔

ہسپتال بھیجے جانے والے مسافروں میں زیادہ تر بچے اور حاملہ خواتین تھیں جو رات بھر سخت سردی میں ٹھٹھرتے رہے تھے۔

اتوار کی صبح نکالے جانے والے ایک مسافر نے یونانی ٹیلی وی چینل میگا کو بتایا: ’ہم باہر ہیں۔ ہمیں بہت سردی لگ رہی ہے، کشتی دھویں سے بھری ہوئی ہے، اور یہ اب بھی جل رہی ہے۔ فرش ابل رہا ہے، کیبنوں کے نیچے پانچ بجے سے آگ لگی ہوئی ہے۔ امدادی کشتیاں واپس چلی گئی ہیں اور ہم اب بھی یہیں ہیں۔ وہ ہمیں ساتھ نہیں لے جا سکیں۔‘

کشتی پر سوار اکثر افراد یونانی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکشتی پر سوار اکثر افراد یونانی ہیں

امدادی ہیلی کاپٹروں کے پہنچنے سے پہلے ہی بحری جہازوں نے اس کشتی کے آس پاس گھیرا ڈال دیا تھا تاکہ اسے لہروں سے بچایا جا سکے اور امدادی کارروائیوں میں مدد دی جا سکے۔

حکام کے مطابق کشتی پر سوار اکثر افراد یونانی ہیں، البتہ بعض مسافر اٹلی، ترکی، البانیہ، جرمنی اور دوسرے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آگ کیسے لگی۔