جہادی حملوں کی ہولناک انسانی قیمت

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, پیٹر نیومین
- عہدہ, پروفیسردفاعی امور، کنگز کالج لندن
چار برس پہلے تک جہاد کے باعث پھیلنے والے تشدد کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ تیزی سے زوال پذیر ہو رہا ہے۔
یہ وہ وقت تھا جب اسامہ بن لادن اور ان کے سینئیر ساتھی ہلاک ہو چکے تھے اور دوسری جانب عرب دنیا میں ’پرامن انقلاب‘ آزادی اور جمہوریت کے لیے ایک نئے دور کی صورت میں ابھرتا دکھائی دے رہا تھا۔ ایسے میں القاعدہ اور اس کی جہادی دہشت گردی اگر وقت کے دھارے کی مخالف نہیں لگ رہی تھی تو فرسودہ ضرور دکھائی دیتی تھی۔
<link type="page"><caption> جہادیوں کے ہاتھوں ایک ماہ میں پانچ ہزار افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/12/141210_mapping_jihadism_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
صحافی، ماہرین تعلیم اور حتیٰ کہ حکمتِ عملی ترتیب دینے والے ماہرین بھی آگے بڑھ کر القاعدہ کی سٹریٹیجک شکست، ناکامی اور زوال کی بات کر رہے تھے۔ لیکن 2014 یعنی رواں سال کے اختتام تک القاعدہ اور اس کا جہاد نہیں رہا بلکہ ان کی موت کی پیش گوئی فرسودہ ہو چکی ہے۔
لیکن اب شکست سے بہت دور، جہادی گروہ دنیا میں ہر جگہ خصوصاً 2011 میں انقلابی تحریکوں کے زیر اثر عرب ممالک میں ازسرنو منظم ہو رہے تھے۔
<link type="page"><caption> جہادی گروہوں کے مالی وسائل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/12/141211_jihadi_finances_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
ان میں جو گروہ سب سے زیادہ خبربں میں ہے وہ دولتِ اسلامیہ ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس نے خلافت کے قیام اور شامی شہر حلب سے عراق کے دارالحکومت بغداد کےاطراف تک کے علاقے پر قبضے کا دعویٰ کیا۔ اگر دولتِ اسلامیہ نے عالمی جہاد میں القاعدہ کی جگہ نہیں بھی لی، پھر بھی یہ تنظیم اس کی اپنی کارروائیوں اور نظریے میں القاعدہ کے برابر آ گئی ہے۔
گذشتہ تین ماہ کے دوران میں نے بی بی سی کے ساتھ اسی موضوع پر ایک تحقیقی منصوبے پر کام کرنا شروع کیا جس میں ہمارا مقصد یہ تھا کہ ہم نومبر کے مہینے میں جہادی تشدد اور اب تک رپورٹ ہونے والی ہلاکتوں کا ریکارڈ حاصل کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کام بی بی سی کی عالمی سروس، بی بی سی مانیٹرنگ اور آئی سی ایس آر کے تعاون سے ماہرانہ، صحافیانہ اور پیشہ ورانہ سہولیات کی بدولت ممکن ہو سکا۔
انسانی قیمت
اس تحقیق کے نتائج اہم بھی ہیں اور پریشان کن بھی۔
نومبر 2014 کے دوران جہادیوں نے 664 حملے کیے جن میں 5042 ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ تعداد ان ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے جو امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں میں ہوئی تھیں۔
اگرچہ سابقہ ادوار سے موازنہ کرنا مشکل ہے تاہم مجموعی تصویر یہ ہے کہ اب یہ تحریک بہت متحرک، پیچیدہ، جدید اور دور رس نتائج کی حامل بن چکی ہے۔
دولتِ اسلامیہ ایک خطرناک گروہ ہے اور اس کے پھیلاؤ کے دوران جنگ میں گھرے شام اور عراق میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور جہادی گروہ مزید 12 ممالک میں حملے کر چکے ہیں۔
دوسری جانب دیگر جہادی گروہوں کی کارروائیوں میں فقط ایک ماہ کے عرصے میں نائجیریا اور افغانستان میں 800 لوگوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جبکہ یمن، صومالیہ اور پاکستان میں بھی اس دوران سینکڑوں ہلاکتیں ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کارروائیوں میں جہادیوں کی ہلاکتوں کو الگ بھی کر دیا جائے تو ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 51 فیصد بنتی ہے۔ اور اگر اس میں پولیس اور فوج کے اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو شامل کر دیا جائے تو یہ تناسب 57 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔
اگرچہ ’جہادی تشدد‘ کو بڑے پیمانے پر کیے جانے والے دھماکوں کے ذریعے ہونے والی ہلاکتوں سے تعبیر کیا جاتا ہے (جیسا کہ اس سے قبل نیویارک، میڈرڈ اور پھر لندن میں ہو چکا ہے)، لیکن آج کے جہادی اپنی کارروائیوں میں مخلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔
ہمارے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق ان گروہوں نے بم دھماکوں سے کہیں زیادہ لوگوں کو گولی مار کے، گھات لگا کر حملوں میں، فائرنگ یا دستی بموں کی بمباری میں ہلاک کیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نئے جہادی گروہوں کی توجہ علاقے پر قبضہ کرنے اور رسمی فوج کا استعمال کرنے پر ہے۔
ان گروہوں کی جانب سے ہونے والی 60 فیصد سے زائد ہلاکتوں کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا القاعدہ سے کوئی رسمی تعلق نہیں تھا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ ان ہلاکتوں میں القاعدہ اور اس کے اتحادی، خاص طور پر شام میں موجود النصرہ فرنٹ اور القاعدہ جزیرہ نما عرب اب بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
یہ منصوبہ اسی جہادی تحریک کی کہانی بیان کرتا ہے جو آج ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے اور اس کے بارے میں حتمی طور پر کسی بھی قسم کی پیش گوئی کرنا ناممکن ہے۔
فوری طور پر ہماری توجہ خطرے سے دوچار انسانی زندگیوں کی قیمت پر ہے۔ اوسطاً ہر روز 20 حملوں میں 170 کے قریب ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ جہادی گروہ ایک ایسے نظریے کے نام پر لاتعداد زندگیوں کو ختم یا تباہ کر رہے ہیں جسے مسلمانوں کی اکثریت مسترد کرتی ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بھی زیادہ تر مسلمان ہی ہیں۔
اگر یہ اعداد و شمار اس تحریک کے عزائم کو ظاہر کرتی ہے تو ساتھ ہی ساتھ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے کتنی طویل سیاسی، سماجی، نظریاتی اور عسکری ذمہ داری کی ضرورت ہو گی۔







