شام میں تین صحافی میزائل حملے میں ہلاک

شام میں گذشتہ تین سال کے دوران 70 صحافی مارے جا چکے ہںی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشام میں گذشتہ تین سال کے دوران 70 صحافی مارے جا چکے ہںی

شام میں حزب اختلاف کے ٹی وی چینل کے تین صحافی ملک کے جنوبی مشرقی علاقے میں ہونے والے ایک میزائل حملے میں مارے گئے ہیں۔

تینوں صحافی اورئنٹ نیوز کے ملازمین تھے اور یہ صوبہ دیرا میں شیخ مسکین کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ایک میزائل ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔

نیوز چینل نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خیال میں سرکاری سکیورٹی فورسز نے براہ راست گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔

شام میں گذشتہ تین سال سے جاری تنازعے کی کوریج کرنے والے اب تک 70 صحافی مارے جا چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت مقامی صحافیوں کی ہے۔

اورئنٹ نیوز کے مطابق اس کے نامے نگار رامی عاصمی، یوسف الدوس اور کیمرہ مین سلیم خلیل پیر کو شیخ مسکین جاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

چینل کے مطابق اس علاقے میں حال ہی میں کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد باغیوں نے پیش قدمی کی ہے۔

چینل کے مطابق صحافیوں کی گاڑی کو گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

نیوز چینل کے مطابق مارے جانے سے چند منٹ پہلے ہی وہ علاقے میں قائم ایک فوجی چیک پوسٹ سے گزرے تھے۔

صحافیوں کی گاڑی پر پریس کا کوئی نشان موجود نہیں تھا تاہم نیوز چینل کے مطابق گاڑی کی چھت پر چھ فٹ کی سٹیلائٹ ڈش نصب تھی۔

صحافیوں کے عالمی تنظیم سی جے پی یا ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنسلسٹس‘ کے مطابق وہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتے ہیں کہ گاڑی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تاہم تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ صحافیوں پر براہ راست حملے کیے ہیں۔

سی پی جے کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام کے سینیئر اہلکار شریف منصور کے مطابق’تنازعے کی کوریج کے لیے بہت سارے شامی صحافیوں کو قیمت چکانا پڑی ہے اور صرف ایک حملے میں تین صحافیوں کی ہلاکت ایک المناک واقعہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’ شام میں تنازعے کی کوریج کرنے والے صحافیوں عام شہری ہیں اور شامی حکومت کو ان کے رتبے کی قدر کرنا چاہیے‘۔