مغرب میں مسلمانوں میں آن لائن ڈیٹنگ کا فروغ

والدین اور خاندان کی پسند پر شادی کرنا بہت سے معاشروں میں عام ہے لیکن لڑکی اور لڑکے کو پرکھنے کا یہ عمل نوجوانوں کے لیے پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
مغرب میں رہنے والے کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے رشتے استوار کرنے سے اس پورے عمل میں شرمندگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
’آپ کو وہ کیوں نہیں پسند؟ وہ ہاتھوں پیروں سے سلامت تو ہے، اچھی بھلی نوکری بھی کر رہی ہے، تو پھر کیسے تمہیں ناپسند ہو سکتی ہے؟‘ ادیم یونس اپنے خاندان کا قصہ سنا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شام کے کھانے پر لڑکی، لڑکے کو ملوایا جاتا ہے، سموسے، چکن اور چپاتیاں میز پر آ جاتی ہیں، اس سارے ماحول میں بڑا دباؤ محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہ انتہائی مشکل کام ہے۔‘

یورپ اور امریکہ میں بسنے والے دیگر نوجوان مسلمانوں کی طرح یونس رشتوں کو استوار کرنے کے روایتی طریقے کے متبادل کی تلاش میں تھا اور اسی طرح سے انٹرنیٹ کے ذریعے جوڑیاں بننے کا آغاز ہو گیا۔
گذشتہ ایک دہائی میں آن لائن ڈیٹنگ خاصی مقبول ہوئی ہے بالخصوص یورپ اور شمالی امریکہ میں۔
یہ حیرانی کی بات نہیں کہ مغرب میں بسنے والے مسلمانوں نے اپنی ضرورت کے مطابق آن لائن ڈیٹنگ اپنا لی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آن لائن ڈیٹنگ نے جیون ساتھی تلاش کرنے کے ذہنی دباؤ کو کافی کم کر دیا ہے کیونکہ اس عمل میں آپ ایسے ممالک میں اپنے لیے ہم وطن، ہم مذہب اور ایک ہی طرح کے شوق رکھنے والے جیون ساتھی چن سکتے ہیں جہاں آپ اقلیت میں ہیں۔
یونس کی اپنی ویب سائٹ ’سنگل مسلم ڈاٹ کام‘کے اس وقت دس لاکھ سے زیادہ ممبران ہیں۔ لیکن یونس اسے مسلم آن لائن ڈیٹنگ کہنے سے اتفاق نہیں رکھتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا خیال ہے کہ ڈیٹنگ کی عام ویب سائٹوں کے برعکس سنگل مسلم ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹ پر ساری عمر کے لیے جیون ساتھی چننے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری یہ لوگ انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
سنگل مسلم ڈاٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر روزانہ اوسطاً چار جوڑے بنتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ مسلمانوں میں آن لائن ڈیٹنگ کے رجحان میں اضافے اور ہر عمر اور فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو سروس مہیا کرنے کی واحد مثال ہے۔

مثال کے طور پر مسلم میٹریمنی ڈاٹ کام بھی اسی طرح کی ویب سائٹ ہے لیکن یہاں تو آپ اسلام کے ایک ہی فرقے اور ایک ہی زبان بولنے والے جیون ساتھی کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔
محمد چار برس قبل اپنی بیوی کیتھرین سے آن ڈیٹنگ کے ذریعے ہی ملے تھے۔ آج وہ دو بچوں کے باپ ہیں اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اپنے لیے دلھن تلاش کرنا محمد کے لیے مشکل کام تھا۔
محمد کہتے ہیں کہ راسخ العقیدہ مسلمان پبوں اور کلبوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں، تو ان کے لیے جیون ساتھی تلاش کرنے کے مواقع بہت کم ہو جاتے ہیں۔
محمد مسلمانوں کے لیے بنائی گئی ویب سائٹوں سے پہلے کئی آزاد خیال ویب سائٹوں پر جا چکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسٹر 2010 کا وقت تھا جب میں نے پہلی بار کیتھرین کو ای میل کی، اور چیزیں اتنی تیزی سے آگے بڑھیں کہ ہم نے تین چار ماہ بعد شادی کر لی۔‘
بنگلہ دیشی نژاد محمد اور برطانوی نژاد کیتھرین کے مذاہب، رنگ، نسل سب کچھ باکل مختلف ہے لیکن یہ ویب سائٹیں اسی طرح جوڑے بنانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔
ڈیوک یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر اور مسلمانوں کی آن لائن شادیوں پر تحقیقی مقالے کے مصنف پروفیسر ایم بایے لو کا کہنا ہے کہ اسلام کا دائرۂ کار نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے نہ کہ علاقائی بنیادوں پر اور یہ کہ اسلام ایک عالمی حلقہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہی وجہ ہے ایسی ویب سائٹوں کے فرنٹ صفحے پر آپ افریقی نژاد مسلمان کے ساتھ پاکستانی یا بھارتی مسلمان خاتون کو دیکھیں گے۔‘
زید کا تعلق تیونس سے ہے اور وہ اپنی بیوی سہ پہلی بار آن لائن ہی ملے تھے۔ وہ خوش تو ہیں لیکن بہت سے لوگوں کی طرح ان کے خیال میں آن لائن ڈیٹنگ میں بہت زیادہ مبالغے سے کام لیا جاتا ہے۔
انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں۔
بہرحال مغرب میں آن لائن شادیوں کی صنعت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یونس نے 2000 میں سنگل مسلم ڈاٹ کام شروع کی تھی جو آج خاصی مقبول ہو چکی ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ویب سائٹ سے نہ صرف اسے کاروباری فائدہ ہو رہا ہے بلکہ اس کی اپنی بیوی سے پہلی ملاقات بھی اسی ڈیٹنگ ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی تھی۔







