امریکی سفارت خانوں کی سکیورٹی سخت

سی آئی اے کے بارے میں رپورٹ پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسی آئی اے کے بارے میں رپورٹ پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔

امریکہ میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی طرف سے القاعدہ کے گرفتار ارکان کی تفتیش کےدوران انتہائی طریقے استعمال کرنے کے بارے میں رپورٹ کے عام کیے جانے سے قبل دنیا بھر میں امریکی تنصیبات کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔

ایک سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ ’انتہائی خطرات‘ کے اشاروں کے پیش نظر سفارت خانوں اور دوسری عمارات اور تنصیبات کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سینیٹ کی چار سو اسی صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ منگل کو سامنے آنے والی ہے۔ اس رپورٹ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد القاعدہ کے خلاف امریکی خفیہ ادارے کی مہم کی تفصیلات رقم کی گئی ہیں۔

اس رپورٹ میں سی آئی اے کے کارندوں کی طرف سے القاعدہ کے گرفتار ارکان سے معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنائے گئے انتہائی ہتھکنڈوں کی بھی تفصیلات درج ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد سے بھی مطلوبہ معلومات حاصل نہیں کا جا سکیں۔

واشنگٹن میں اس بات پر تنازع کی وجہ سے کہ کونسی معلومات کو عام کیا اور کن چیز کو عام نہ کیا جائے رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر ہوئی ہے۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی طرف سے مرتب کی گئی چھ ہزار صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو مکمل طور پر عام نہیں کیا جائے گا اور اس کے زیادہ تر حصے خفیہ ہی رکھے جائیں گے۔ اس رپورٹ کے صرف چار سو اسی صفحات سینیٹ کے پینل میں شامل ڈیموکریٹس کی طرف سے جاری کیے جا رہے ہیں۔

صدر اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سی آئی اے کی طرف سے تفتیش روک دی تھی اور اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ سی آئی اے کی طرف سے اپنائے گئے تفتیش کے طریقے تشدد کے ضمرے میں آتے ہیں۔

سی آئی اے نے کئی ملکوں میں تفتیشی مراکز قائم کیے ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنسی آئی اے نے کئی ملکوں میں تفتیشی مراکز قائم کیے ہوئے تھے

سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں سی آئی اے نے سو سے زیادہ مشتبہ افراد کو امریکہ سے باہر دوسرے ملکوں میں ’بلیک سائٹس‘ یا خفیہ تفتیشی مراکز میں رکھا تھا۔

تفتیش کے طریقوں میں ’واٹر بورڈنگ‘ تماچے مارنا، ذلیل کرنا، انتہائی کم درجہ حرارت میں رکھنا اور سونے نہ دینا شامل تھا۔

اس سال اگست میں اس رپورٹ کے بارے میں پتہ چلا تھا جس کے بعد صدر اوباما کو کہنا پڑا تھا کہ ’ہم نے کچھ ایسا کیا ہے جو ہماری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘

صدر اوباما نے مزید کہا تھا کہ ان کے خیال میں افسران نے یہ انتہائی طریقے اس لیے استعمال کیے کیونکہ وہ امریکہ کو کسی دوسرے دہشت گرد حملے سے بچانے کے لیے دباؤ کا شکار تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ اس رپورٹ کی اشاعات کا خیر مقدم کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ اس رپورٹ کے سامنے آنے سے امریکی تنصیبات کو خطرہ بڑھ جائے گا۔

سینیٹ کی کمیٹی کے سربراہ ڈیموکریٹک سینیٹر ڈینی فینسٹائن نے اس رپورٹ کو عام کیے جانے کی اجازت دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی انتظامات بڑھنے کا اقدام درست ہے۔

سیکریٹری خارجہ جان کیری نے اس سے قبل سینیٹ کمیٹی سے رپورٹ کے عام کیے جانے کے وقت پر غور کرنے کی دوخواست کی تھی۔