بیلچے سے برف ہٹانے سے جان جا سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAP
نیویارک میں شدید برفباری کے بعد بیلچے سے برف ہٹانے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ موسم سرما میں ہر سال تقریباً سو امریکی اسی طرح جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس سلسلے میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق امریکہ میں سنہ 1990 اور 2006 کے درمیان برف ہٹاتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے 1647 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کینیڈا میں بھی اس طرح کی اموات ہر سال خبروں میں آتی ہیں۔
مشی گن ہسپتال میں امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر بیری فرینکلن کا خیال ہے کہ برف ہٹاتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے اموات کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے۔ وہ یقین سے کہتے ہیں کہ ہر سال سینکڑوں لوگ اس طریقے سے ہلاک ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر بیری کی ٹیم کی تحقیق کے مطابق جب لوگ بیلچے کے ذریعے برف ہٹاتے ہیں تو ان کے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر اس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے جتنا ٹریڈ مل پر بھاگنے سے بڑھتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر بیری کے مطابق: ’سرد ہوا سے رگیں سکڑ جاتی ہیں جس کے باعث دل کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور آپ آسانی سے ہارٹ اٹیک کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
ان کا کہنا تھا کہ یہ کام اتنا خطرناک ہے کہ وہ 55 سال کی عمر سے زیادہ کسی بھی شخص کو بیلچے سے برف صاف کرنے کے لیے نہیں کہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر بیری نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہے جو پہلے سے دل کے مریض ہیں اور سال میں صرف ایک بار بیلچے سے برف ہٹاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ پینے والے اور بھاری وزن والے افراد میں برف ہٹاتے ہوئے ہارٹ اٹیک کا خطرہ انتہائی زیادہ ہوتا ہے۔
لیکن اگر اب برف میں پھنس گئے ہیں اور اسے کسی طرح ہٹانا آپ کی مجبوری بن چکی ہے تو آپ کیا کریں گے؟
ڈاکٹر بیری کا کہنا ہے کہ برف اٹھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ اسے بیلچلے سے دھکیلیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بہت سارے گرم کپڑے پہن لیں اور برف ہٹاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے وقفے ضرور کریں۔
اور ہاں، ڈاکٹر بیری کے بقول برف ہٹانے سے سے پہلے یا اس کے دوران نہ تو سگریٹ پییں اور نہ کچھ کھائیں۔







