یوکرین میں علیحدگی پسندوں کے متنازع انتحابات

،تصویر کا ذریعہAP
مشرقی یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسند اتوار کو متنازع انتخابات کرا رہے ہیں جسے مغربی ممالک نے غیرقانونی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ دونیتسک اور لوہانسک کی دو خود سے اعلان کردہ ’جموری مملکتیں‘ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کرا رہی ہیں۔
یوکرین، امریکہ اور یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ روس کی پشت پناہی میں کرائے جانے والے انتخابات کو تسلیم نہیں کریں گے۔
مشرقی یوکرین میں مہینوں کی لڑائي کے بعد دونیتسک اور لوہانسک کا علاقہ باغیوں کے قبضے میں آ گیا اور یہ لڑائی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد رکی۔

،تصویر کا ذریعہOther
باغی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک آزاد مملکت کے طور پر انھیں یوکرین کے قانون کو تسلیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے انھوں نے گذشتہ ہفتے یوکرین میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیے 30 لاکھ بیلٹ پیپر چھپوائے گئے ہیں جسے براہ راست صدر اور پارلیمانی نمائندوں کے انتخاب کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
دونیتسک علاقے کے چیف الیکشن کمیشنر رومن لیاجن نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ انتخابات اس لیے اہم ہیں کیونکہ یہ ہمارے اقتدار کو جواز بخشتے ہیں اور ہمیں کیئف سے مزید دور لے جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
لیکن مغربی ممالک کے رہنماؤں اور یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں وزرا کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں‘ کو جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے جس پر روس نے رضا مندی ظاہر کی تھی۔ اس کے تحت مقامی انتخابات یوکرین کے قانون کے مطابق دسمبر میں ہونے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کو وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا: ’مشرقی یوکرین کے بعض حصوں میں باغیوں کے ذریعے اتوار کو کرائے جانے والے غیر قانونی نام نہاد مقامی انتخابات کی ہم مذمت کرتے ہیں۔‘
بہر حال روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ معاہدے میں ’یوکرین کے تعاون سے انتخابات‘ کی بات ہے نہ کہ ’یوکرین کی مرضی کے مطابق‘ انتخابات کی۔
دریں اثنا ایگور پلونتسکی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ لوہانسک میں جیت کے بڑے دعویدار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بہرحال یہ انتخابات مشرقی یوکرین میں جاری تشدد کے واقعات کے دوران ہو رہے ہیں۔
یوکرین فوج کے ایک ترجمان نے سنیچر کو کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں سات فوجی ہلاک جبکہ 10 زخمی ہوئے ہیں۔
اپریل میں شروع ہونے والی اس کشمکش میں ابھی تک 3700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







