روس اور یوکرین کے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکی

،تصویر کا ذریعہReuters
روس اور یوکرین کے صدور کے درمیان یورپی یونین کے رہنماؤں کی موجودگی میں مذاکرات ہوئے ہیں لیکن یوکرین کا بحران حل کرنے میں بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
ولادمیر پوتن اور پیٹرو پوروشنکو نے جن کے ساتھ ملان میں یورپی یونین کے رہنماوں نے ملاقات کی، ان مذاکرات کو مثبت پر مشکل قرار دیا۔
مغربی ملکوں کا الزام ہے کہ روس یوکرین کے باغیوں کو اسلح فراہم کر رہا ہے اور اس نے مشرقی یوکرین میں اپنے فوجی بھی بھیج رکھے ہیں لیکن روس ان الزامات کی تردید کرتا۔
دونوں صدور کا کہنا تھا کہ گیس کے تنازع پر معاہدے کے خدوخال طے کر لیے گئے ہیں۔یوکرین کے صدر نے کہا کہ: ’ہم نے معاہدے کے بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیا مگر ہم کسی ٹھوس حل پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
صدو پوتن نے کہا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی بھی یہ سوال طے ہونا باقی ہے کہ یوکرین گیس کے بقایاجات جو کہ چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے قریب ہیں کس طرح ادا کرے گا۔
روس کی زیادہ تر گیس یوکرین سے گزر کر یورپی ملکوں تک پہنچتی ہے اور پوتن مغربی ملکوں کو خبردار کیا کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا گیس کی ترسیل خطرے میں رہے گی۔
روس نے اس سال موسم گرما میں یوکرین پر گیس کے بل نہ ادا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے گیس کی فراہمی بند کر دی تھی۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمت جو ماسکو نے طے کی ہے وہ غیر منصفانہ ہے۔



