نیٹو روسی ہیکرز کے نشانے پر

،تصویر کا ذریعہAP
روسی ہیکرز کی جانب سے مائیکرو سافٹ ونڈو کے ایک بگ کے ذریعے نیٹو اور مغربی ممالک کے حکومتوں کی جاسوسی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
سائبر انٹیلی جنس فرم ’آئی سائٹ پارٹنرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس بگ کو پولینڈ اور یوکرین کے کمپیوٹرز تک رسائی کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
لیکن مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ وہ جلد اس بگ سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔
کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بگ سے متاثر ہونے والے کمپیوٹرز کے لیے نئی آٹومیٹک اپڈیٹ جاری کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کیا اس میں روس کی حکومت ملوث ہے؟
ابھی تک یہ بگ، دفاع، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ’گلب سیک‘ کانفرنس کے مندوبین اور روس یوکرین تعلقات کے ایک ماہر کے کمپیوٹرز کو ہیک کر چکا ہے۔
یہ ہیکنگ کمپنی گزشتہ پانچ سالوں سے جاری ہے۔ مائیکرو سافٹ فی الحال یہ بتانے سے تو قاصر ہے کہ ان ہیکرز کے روس کی حکومت سے کوئی روابط ہیں۔
لیکن ایک سینئیر تجزیہ کار کے خیال میں ہیکرز کو حکومتی سر پرستی حاصل تھی کیونکہ یہ لوگ پیسے نہیں بلکہ اہم معلومات اکٹھی کرنے کے چکر میں تھے۔
سولہ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں ’آئی سائٹ‘ کا کہنا ہے کہ نیٹو کے کمپیوٹروں کو دسمبر دو ہزار تیرہ میں ٹارگٹ کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ اور تحقیقاتی اداروں کے خیال میں ’سینڈورم بگ‘ کے حملے ماضی میں ’کوداغ بگ‘ کے نام سے رپورٹ کیےگئے۔
۔







