آخری برطانوی فوجی دستہ بھی افغانستان سے روانہ

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ کا آخری فوجی دستہ بھی افغانستان کے صوبے ہلمند سے واپس لوٹ گیا اور برطانیہ میں کیے گئے ایک سروے میں 68 فیصد لوگوں کی رائے کے مطابق افغانستان میں کی گئی یہ کارروائی فائدے مند نہیں تھی۔
بی بی سی کی جانب سے 1000 بالغ افراد سے حاصل کی گئی رائے کے مطابق 42 فیصد برطانوی شہریوں کا خیال ہے کہ اس تیرہ برس کی مہم کے بعد برطانیہ پہلے کی نسبت کم محفوظ ہو گیا ہے۔
افغاسنتان میں برطانیہ کے جنگی مشن کے خاتمے کا اعلان اتوار کو کیا گیا۔ برطانوی فوج کا آخری دستہ قومی پرچم کے ساتھ پیر کو وطن واپس روانہ ہوا۔
اسی علاقے میں موجود امریکی فوجی دستے بھی مکمل کنٹرول افغان فورسز کے حوالے کر کے وہاں سے نکل گئے ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے 24 اور 26 اکتوبر کے درمیان یہ رائے ٹیلی فون پر حاصل کی گئی۔ اس کے نتائج کے مطابق 14 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ سنہ 2001 میں افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی مداخلت کے بعد اب برطانیہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
سروے کے نتائج کے مطابق 39 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اس کارروائی سے کوئی فرق نہیں پڑا جبکہ پانچ فیصد لوگوں سے کسی بھی قسم کی رائے دینے سے انکار کیا۔
24 فیصد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں برطانیہ کی مداخلت فائدے مند تھی۔ 24 فیصد لوگ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ نے افغانستان کو پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑا جبکہ 25 فیصد کا خیال ہے کہ ملک پہلے سے بھی بدتر ہو گیا۔ 44 فیصد لوگوں کی رائے میں افغانستان میں کچھ نہیں بدلا۔
سروے میں پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں 31 فیصد لوگوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ افغانستان برطانوی فوج کی مدد کے بغیر بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔ جبکہ 64 فیصد نے کہا کہ انھیں اس بات کا کامل یقین نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ اب اس کے ملک کی فوجی کسی بھی حالت میں افغانستان لڑنے نہیں جائے گی۔
ہلمند میں برطانوی فوج کے اعلی ترین افسر برگیڈیئر راب تھامسن کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی تقریب میں ذمہ داریاں افغانوں کو سونپ دی گئیں۔

وزیرِ دفاع مائیکل فیلن نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان کو پہلے سے بہتر جگہ بنا کر ’فوجی بلند سروں کے ساتھ واپس لوٹ رہے ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان اب شدت پسندوں اور القاعدہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا اور اس کے لیے اب بہتر مستقبل بنانے کا موقع ہے۔
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ افغانستان ہمیشہ مستحکم اور محفوظ رہے گا لیکن اس وقت افغان حکومت کے پاس تین لاکھ فوجی اور پولیس افسران ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ اگر افغان فوج نے بھی عراقی فوج کی طرح ہتھیار ڈال دیے تو کیا ہوگا۔ وزیرِ دفاع مائیکل فیلن کا کہنا تھا کہ عراق میں معاملہ فرقہ واریت کا ہے جبکہ افغان فوج کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔
انھوں نے کہا برطانیہ مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹ رہا بلکہ وہ افغانستان کو فوجی تربیت اور اقتصادی مدد فراہم کرتا رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہEUROPEAN PHOTOPRESS AGENCY
گیارہ ستمبر سنہ 2001 میں امریکہ پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف برطانیہ بھی امریکہ کا اتحادی تھا اور اس کے فوجی دستے بھی افغانستان پر حملے میں شامل تھے۔







