جوہری پروگرام کے معاہدے پر ایرانی فلم سازوں کی مہم

،تصویر کا ذریعہnotonodeal
ایران کے چھ مشہور فلم سازوں نے ایک مہم چلائی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کو ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے مستقل حل کے معاہدے پر پہنچنا چاہیے۔
ان چھ ڈائریکٹروں میں عباس کیارستمی اور اصغر فرہادی شامل ہیں۔ اصغر فرہادی نے 2012 میں ایران کے لیے پہلا آسکر ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی معاہدہ معاہدہ نہ ہونے سے بہتر ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایران پر لاگو ہونے والی بین الاقوامی پابندیوں سے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچنے کی بجائے ایرانیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
یہ مہم ایران اور دیگر ممالک کے دوران ہونے والے مذاکرات کے دوران چلائی جا رہی ہے جن کی آخری تاریخ 24 نومبر ہے۔
گذشتہ ہفتے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’P5+1‘ کے ممالک (جن میں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی شامل ہیں) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن وہ ’اتنی اہم‘ نہیں ہے۔
ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ گذشتہ سال کے معاہدے کی طرح اس سال بھی ایران کو مزید فوائد ملیں۔ پچھلے معاہدے کے تحت ایران کو یورینیئم کی افزودگی کو روکنے کے بدلے میں اس پر پابندیاں جزوی طور پر اٹھا دی گئی تھیں۔
بی بی سی فارسی کی نامہ نگار قسرہ ناجی کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر یہ مہم چلانے والے چھ ڈائریکٹر اکثر ایسی فلمیں بناتے ہیں جن پر ایران میں پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں لیکن یہ فلمیں بیرونی ممالک میں باوقار انعامات حاصل کرتی ہیں۔
قسرہ مزید کہتی ہیں کہ ان ڈائریکٹروں نے یہ مہم ایرانی حکومت کے ساتھ مشکل تعلقات کے باوجود چلائی ہے جس میں انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کو ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ جولائی میں پیش کردہ تجویز پر کسی معاہدے پر پہنچنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تجویز کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو موجودہ سطح پر روک دیا ہے۔
’P5+1‘ کے ممالک چاہتے ہیں کہ ایران اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو مستقل طور پر ختم کر دے۔
عالمی طاقتوں کو ایران پر ایک عرصے سے شک ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہوتی ہیں۔







