’جوہری پروگرام پر مذاکرات کا وقت ختم ہو رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے صدر حسن روحانی نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے جوہری پروگرام پر مستقل معاہدے پر مذاکرات کے لیے وقت نکلا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے بات چیت میں پیش رفت بہت کم ہوئی ہے۔
مستقل معاہدے کے لیے 24 نومبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
تاہم حسن روحانی نے یہ سمجھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ نہیں رہنے چاہیئیں۔
امریکہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتیں سمجھتیں ہیں کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ایران نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔
مذاکرات کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ایران کے یورینیئم افزودگی کے پروگرام میں کمی کے بدلے ایران کے خلاف مغرب کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں ختم کی جائیں گی۔
اس سے قبل گذشتہ برس جینوا میں ہونے والا عبوری معاہدے میں پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران نے جوہری پروگرام کے بعض اہم حصوں کو بند کر دیا تھا۔
ایک نیوز کانفرنس میں ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ’کچھ پیش قدمی ہوئی ہے لیکن یہ قابلِ ذکر نہیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ایران نے ضروری نرمی دکھائی ہے اور اب یہ چھ عالمی طاقتوں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی پر ہے کہ وہ بات چیت کو آگے بڑ ھائیں۔
ان کا کہنا تھا ’وقت کم ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ اسے توانائی کی پیداوار اور دیگر پر امن مقاصد کے لیے ایک محفوظ حد تک افزودہ یورینیئم کی ضرورت ہے لیکن امریکہ اور دیگر ممالک کو خوف ہے کہ یہی یورینیئم ایران جوہری بم بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ایران کبھی بھی ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اسے سرے سے یورینیئم کی افزودگی سے روکے اور پابندیوں کو ہر صورت ختم ہونا ہو گا۔
انھوں نے کہا ’ایران اپنے قانونی حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور پر امن جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا۔‘
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ پتھر کی تحریر نہیں ہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ ہی رہیں گے۔‘
’ایک دن یہ تبدیل ہوں گے‘
گذشتہ برس کے انتخابات میں حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے سے تعاون کا وعدہ کیا تھا۔







