عراق میں امن میلہ

iraq peace carnival

،تصویر کا ذریعہbaghdad peace carnival

،تصویر کا کیپشنعراق میں امن میلہ منعقد کیا گیا

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امن میلہ منعقد کیا گیا۔ یہ میلہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے 2011 سے لے کر اب تک عالمی یومِ امن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

اس سال یہ میلہ اس امید پر منایا جا رہا ہے کہ جو عراقی اندرونی طور پر بے گھر ہوئے ہیں ان کے لیے فنڈز جمع کیے جا سکیں۔ بی بی سی عربی کی مروا النگار نے یہاں کچھ منتظمین اور رضاکاروں سے بات کی۔

نوف آسی، 25، منتظم اور رضاکار

2011 کے دوران میں نے اور میرے ایک دوست زین نے گوگل پر جب بغداد نام ٹائپ کیا تو وہاں صرف تشدد، موت، خونریزی، بارود اور دھماکوں کی تصویریں نظر آرہی تھیں۔ پھر جب ہم نے وہاں لفظ ’عراقی خوشیاں‘ سرچ کیا تو اس پر سوائے ایک تصویر کے کچھ نہ ملا، جس میں عراقی فٹبال ٹیم جیت کی ٹرافی اٹھائے ہوئے تھی۔

پھر ہم نے وہاں کافی سرچ کی لیکن انٹرنیٹ پر ہمیں ایسا کچھ نہیں ملا جو ہمارے خیال ’امن کا شہر‘ سے مطابقت رکھتا ہو۔

اس بارے میں ہم لوگوں کی سوچ بدلنا چاہتے تھے، تب ایک سادہ سا خیال ذہن میں آیا ہم نے عالمی یومِ امن کے موقعے پر اپنے پڑوس میں موم بتیاں جلائیں۔ تب کسی نے آ کے ہم سے کہا چلو میں یہاں ایک اسٹیج بناتا ہوں پھر وہاں کچھ شروع کرتے ہیں۔

وہیں پر ایک اور نوجوانوں کا گروپ آیا جنھوں نے ایک میوزیکل گروپ تشکیل دینے کی صلاح دی جو لوگون کو محظوظ کرے ، ایسے ایک سادہ سے خیال (موم بتیاں جلا کر خوشیاں منانے) کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ اب ایک میلے کی طور پر منایا جانے لگا ہے اور ہر کوئی اس میلے کو کامیاب بنانے کے لیے رضاکارانہ طور پر مدد کرتا ہے۔

جس سال ہم نے یہ شروع کیا تھا تب ہمارے پاس صرف 50 رضاکار تھے اور اب 300 ہو گئے ہیں۔ ہم تین مہینے اس میلے کی تیاری کرتے ہیں جس میں ہم سب کو ایک دوسرے سے ملنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے، اسی دوران ایک ساتھ کام کرنے کا جذبہ اور طاقت بھی بڑھتی ہے۔

ہم اس میں عراقی نوجوانوں کو ان کی قابلیت اجاگر کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ہمارا نقطۂ نظر ایک ہی ہے، ہم امن کا پیغام پھیلانا چاہتے ہیں۔

اس سال ہمارا عزم عراق کے اندر بےگھر لوگوں کو ان کے حقوق واپس دلانا ہے۔ یہی امن کی طرف پیش قدمی ہے۔ بنیادی طور پراس بار میلے کا مقصد فنڈز اکٹھا کر کے ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو گئے ہیں۔

ہم اس میلے کو عراق کے باقی صوبوں تک پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اچھی بات یہ ہے کہ بصرہ میں بھی یہ میلہ دو سال سے منایا جا رہا ہے۔ اور یہ ہماری مشترکہ کوششوں اور معاونت سے ہو رہا ہے­­۔

زین محمد،26، منتظم اور رضاکار

ہم نے امن کا خواب دیکھا اور ہم یہ خواب سب کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حالات میں عراق میں ایسا ہوتے دکھائی نہیں دیتا مگر بھی ہم ایساچاہتے ہیں۔

اس سال یہ میلہ باقی گزرے ہوئے تین سالوں سے بالکل مختلف طریقے سے منایا جا رہا ہے۔ ایک طرح سے یہ بہت مشکل اور چیلنجنگ بھی ہے۔ اس کا بڑا سبب عراق میں اس وقت کے حالات ہیں۔ یہی وجہ ہے کےلوگ اس میلے کے مقصد کو نہیں سمجھ پا رہے۔ میں اگر حقیقت زیادہ واضح کروں تو وہ یہ ہے کہ جو ہمارے شروع کے ساتھی منتظمین یہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

اس سال تو میلہ منعقد نہ کرنے کی رائے بھی سامنے آئی۔ جب ہم نے میلے کے لیے منتظمین کے پہلے اجلاس کا اعلان کیا تو جو پہلا سوال اُٹھا وہ یہ تھا کہ ’آپ کس امن کی بات کر رہے ہیں؟‘

عراق کے اندر اور باہر رہنے والے لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت جب عراق میں مختلف دھڑوں کے آنے سے صورتِ حال بدتر ہوتی جا رہی ہے تو آپ ان حالات میں ناچ گانا کیسے کر سکتے ہیں؟

لیکن بغداد میں امن میلے میں یہ پیغام پہنچایا جا رہا ہے کہ لوگ اپنی قابلیت اور ذہانت سے اس میلے سے فنڈز اکٹھا کر کے بےگھر ہونے والے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں گے۔

اس سال یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہمیں مقامی کمپنیوں سے سپانسرشپ دی گئی ہے۔ اس سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم نے جو چھوٹی سی ابتدا کی تھی وہ کتنی آگے بڑھ چکی ہے۔

ہمارے لیے یہ اور بھی ہمت افزا ہے کہ حکومت کی کسی بھی قسم کی مدد کے بغیر ہمارے نوجوان یہ کام رضاکارانہ طور پر کر رہے ہیں۔

رُسل کامل،27، 2011 سے لے کر اب تک کی ساتھی رضاکار

میں اس سال میں ایک گروپ کے ان پانچ لوگوں میں سے ایک ہوں جو سوشل میڈیا پر میلے کی تشہیر کا کام دیکھ رہے ہیں۔

ہمارا خاص مقصد امن کی سوچ اور بقائے باہمی کو لوگوں میں روشناس کروانا ہے کیونکہ ملک جس مشکل دور سے گزر رہا ہے اس میں امن ہی ایک واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے ملک کو اس مشکل سے نکال سکتے ہیں۔

میرا یہ ایمان ہے اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ امن کی راہ پر چل کر ہی ہم سب اس ملک میں ایک ساتھ بھائی چارے کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور میں اسی لیے ہی میں اس میلے کی رضاکار بنی اور ذاتی طور پر اس کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں امن چاہتی ہوں۔

رضاکارانہ طور پر کام کرنے سے مجھے خود میں انسانیت کا جذبہ نظر آتا ہے۔ میں بغیر کسی مفاد کے یہ اپنے ملک کے لیے کر سکتی ہوں۔ ذاتی طور پر میں نے مثبت اور مضبوط سوچ کو اپنا کر کسی بھی خطرناک یا غیر مثبت سوچ کو ختم کر دیا ہے۔

سلام علی،22، میلے کے بینڈ گروپ کے گلوکار

یہ تیسری بار ہوا ہے کہ میں اس میلے میں حصہ لے رہا ہوں۔ شروع سے میری رضاکارانہ ذمہ داریوں میں میلے میں لوگوں سے ملنا اور ان کو اپنے گانے سے محظوظ کرنا شامل تھا۔

اس میلے کا حصہ بننے اور اس میں گانے کے بعد جو مجھ میں گانے کا خوف تھا وہ ختم ہو گیا اور اب اس میلے میں رضاکارانہ طور پرگانے سے میری گلوکارانہ صلاحیتیں اور اجاگر ہوئی ہیں۔ میلے میں دو قسم کے بینڈ حصہ لے رہے ہیں ان میں سے ایک مشرقی موسیقی میں مہارت حاصل کر رہا ہے اور دوسرا مغربی موسیقی میں مہارت حاصل کر رہا ہے۔

شروع میں ایک تجسس تھا جس کی وجہ سے میں اس میلے کا حصہ بنا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس میلے کا مقصد کیا ہے اور اس سے میں یہ سیکھنا چاہتا تھا کہ رضاکارانہ طور پر کیسے کام کیا جاتا ہے اور میں نوجوانوں کے ساتھ اس میلے کا حصہ بننا چاہتا تھا۔

ہم سب میں معاشی تفریق یا اونچ نیچ کا کوئی فرق نہیں ہے۔ ہمارا ایک ساتھ کام کرنے کا ایک ہی مقصد ہے اور ہم بغداد میں امن چاہتے ہیں۔ چونکہ اس بار میلے کا مقصد بے گھر عراقی ہیں تو اس سال ہم اسی کی عکاسی کرتے ہوئے بہت ہی دھیمے انداز میں گائیں گے۔