آسٹریلیائی جہادیوں کے خلاف کاروائیاں

حکام کے مطابق ساٹھ آسٹریلیائی باشندے اس وقت شام اورعراق میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ساٹھ آسٹریلیائی باشندے اس وقت شام اورعراق میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑ رہے ہیں

آسٹریلیا میں حکام نے انسداد دہشتگردی کے ایک بڑے آپریشن میں دولت اسلامیہ کے ہمدردوں اور حمایتیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ حکام کے مطابق آسٹریلیا کو دولت اسلامیہ کے نظریات سے متفق آسٹریلوی باشندوں سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ بی بی سی نے اس کا جائزہ لیا ہے کہ یہ خطرات کتنے سنگین ہیں۔

مسئلہ کتنا سنگین ہے؟

آسٹریلیا کے حکام مسلمان کمیونٹی میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے پریشان ہیں۔ ان کے مطابق کم از کم 60 آسٹریلوی باشندے اس وقت شام اورعراق میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑ رہے ہیں جب کہ 20 وہاں لڑنے کے بعد واپس آسٹریلیا پہنچ چکے ہیں۔

ستمبر میں برسبین اور کوینز لینڈ کے اسلامک سنٹرز پر چھاپے مار کر دو افراد کو دولت اسلامیہ کے لیے بھرتی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنستمبر میں برسبین اور کوینز لینڈ کے اسلامک سنٹرز پر چھاپے مار کر دو افراد کو دولت اسلامیہ کے لیے بھرتی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

آسٹریلوی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈیوڈ اروین کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے والے اب تک تقریباً پندرہ آسٹریلوی باشندے عراق اور شام میں ہلاک ہو چکے ہیں جن میں دو خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا میں سو سے زیادہ لوگ شدت پسند تنظیموں کے لیے نہ صرف لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے مالی وسائل اور ہتھیار بھی فراہم کر رہے ہیں۔

آسٹریلوی جہادی کون ہیں؟

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں شدت پسندی کے امور کے ماہر کلائیو ولیمز کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی جہادی سنی مسلمان ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق دولت اسلامیہ کے لیے لڑ کر مرنے والے آدھے سے زیادہ آسٹریلوی باشندے آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوئے تھے اور ان میں سے ساٹھ فیصد لبنانی نژاد تھے۔

ان کی اکثریت شادی شدہ تھی اور یہ لوگ شدت پسند نظریات پر عمل پیرا ہونے سے پہلے اسلامی تعلیمات پر زیادہ عمل نہیں کرتے تھے۔

آسٹریلوی حکام نے اٹھارہ ستمبر کو انسداد دہشت گردی آپریشن میں پندرہ افراد کو گرفتار کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی حکام نے اٹھارہ ستمبر کو انسداد دہشت گردی آپریشن میں پندرہ افراد کو گرفتار کیا

کچھ کی تفصیلات بھی معلوم ہیں، جیسے جولائی میں دولت اسلامیہ کے دو جنگجوؤں خالد شروف اور محمد ایلومر کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیےگئے۔ شروف 2008 میں سڈنی میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت چار سال قید بھی کاٹ چکے ہیں۔ وہ گزشتہ سال دسمبر میں اپنے بھائی کا پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوِ تھے۔

دس ستمبر کو اسلامک سنٹر پر پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے والے دو افراد کے نام اگیم کروزی اور عمر سوکاری بتائے جاتے ہیں۔

عمر سوکاری شام میں ہلاک ہونے والےسب سے پہلے خودکش بمبار ابو اسمہ ال آسٹریلوی کے بھائی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق سڈنی سے تعلق رکھنے والے سابق کلب باؤنسر محمد علی برییلی دولت اسلامیہ کی سب سے سینئیر آسٹریلوی جہادی ہیں۔

یہ سب کچھ کیسے سامنے آیا؟

جولائی میں ملبورن کے اٹھارہ سالہ خودکش بمبار نے عراق میں خود کو اڑایا تو حکام نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی ایک آسٹریلوی باشندہ خود کو اڑا چکا ہے۔اس کے بعد شروف سمیت ایک اور آسٹریلوی باشندے کی ایسی تصاویر منظر عام پر آئیں جن میں وہ مخالفین کے کٹے ہوئے سروں کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے۔

ستمبر میں برسبین اور کوئنز لینڈ کے اسلامک سنٹرز پر چھاپے مار کر دو افراد کو دولت اسلامیہ کے لیے بھرتی کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ بارہ ستمبر کو آسٹریلیا میں دہشت گردی کے خطرے کو بڑھا کر ہائی کر دیا گیا اور ایک ہفتہ قبل کچھ ایسے افراد کو گرفتار کیا گیاجو کہ عام لوگوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

آسٹریلوی حکومت اس بارے میں کیا کر رہی ہے؟

وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے آسٹریلوی شدت پسندوں کومخصوص ممالک میں جانے سے روکنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے ایسے قوانین متعارف کروائے ہیں جس کے تحت بغیر کسی وجہ ان ممالک کے سفر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

آسٹریلیائی وزیراعظم شدت پسندی کی روک تھام کے لیے قواننین متعارف کروا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیائی وزیراعظم شدت پسندی کی روک تھام کے لیے قواننین متعارف کروا رہے ہیں

حکومت دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مشتبہ شدت پسندوں کی سرگرمیاں محدود کرنے اور ان کے گھروں کی تلاشی کی اجازت جیسے قوانین کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ سڈنی اور ملبورن ایئرپورٹوں پر انسداد دہشت گردی یونٹس بنائےگئے ہیں اور یہ یونٹس ملک کے تمام بین الاقوامی ایئرپورٹوں پر بنائے جائیں گے۔

آسٹریلوی مسلمانوں کا ردعمل

آسٹریلیا کی مسلمان کمیونٹی کے راہنماؤں نے کھل کر تشدد اور شدت پسندی کی مذمت کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کی مسلمان کمیونٹی کے راہنماؤں نے کھل کر تشدد اور شدت پسندی کی مذمت کی ہے

آسٹریلیا میں مسلمانوں کی آبادی صرف 2.2 فیصد ہے اور ان کی اکثریت اعتدال پسند ہے۔ مسلمان کمیونٹی کے رہنماؤں نے کھل کر تشدد اور شدت پسندی کی مذمت کی ہے۔

آسٹریلیا کے مفتی اعظم نے فیئر فیکس میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آسٹریلین سوسائٹی کو نقصان پہنچانے کا سوچنے والوں لوگوں کی سب سے پہلے ہم مخالفت کریں گے۔‘

لیکن آسٹریلوی مسلمان حکومت کے انسداد دہشت گردی قوانین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ قوانین مسلمانوں کی آزادی پر اثرانداز ہوں گے جس سے مسلمان کمیونٹی میں اضطراب پیدا ہو گا۔

ان کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ مشرق وسطی میں آسٹریلیا کی فوج کی کارروائی سے آسٹریلیا میں شدت پسندی مزید بڑھے گی۔