’ریپ کا شکار ہوئی اور معاشرے کی نفرت کا بھی‘

بھارت کے شہر کلکتہ میں ریپ کا نشانہ بننے والی ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں صرف اس وجہ سے شہر کی ایک بار (ہوٹل) میں داخل ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ وہ ریپ کا نشانہ بن چکی تھیں۔
ریپ کا شکار ہونے والی خاتون سوزیٹ جارڈن نے دوسری خواتین کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر اپنے ساتھ پش آنے والی زیادتی کو آشکار کیا تھا۔
انھوں نے بھارت کی ریاست کلکتہ میں ایک بار کے مینیجر پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ان کو بار کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔
سوزیٹ کو فروری سنہ 2012 میں کلکتہ کی ایک مصروف سڑک پر ریپ کیا گیا تھا۔
اپنے ساتھ پیش آنے والے اندہوناک واقع کے بعد انھوں نےاپنی شناخت کو ظاہر کرنے کو ترجیح دی جس سے شہر بھر میں ان کا نام بدنام ہو گیا۔
انھوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ بار کے مینیجر نے ان کو اندر نہیں جانے دیا کیونکہ ’وہ ریپ ہونے والی خاتوں‘ تھیں۔
بار کے مالکان نے سوزیٹ کے الزامات کی تردید کی ہے۔
بار کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار راہول ٹنڈن کو بتایا کہ سوزیٹ کو اندر جانے کی اجازت اس لیے نہیں دی کیونکہ وہ رات بارہ بجے کے بعد بار میں داخل ہونا چاہتی تھیں۔ انھوں نے کہا کے اس واقع کا ان کے ریپ کیے جانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سوزیٹ نے واقعات کے بارے میں ایک مختلف کہانی بیان کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کو بار کے عملے کے رکن نے کہا، ’آپ وہ خاتون ہیں، میں آپ کو اندر نہیں آنے دے سکتا‘۔
سوزیٹ نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا: ’پہلے خاتون کو ریپ کیا جاتا ہے، پھراس کو وہ زیادتی اور انتقام کا نشانا بنایا جاتا ہے، اور پھر معاشرے میں اس کا حقہ پانی بند کر دیا جاتا ہے۔ اسے اپنی پوری زندگی ایک گوشہ تنہائی میں گزارنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔‘







