روس کی اپنی فضائی حدود بند کرنے کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہAFP
روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کے تنازعے کے باعث یورپی یونین نے ان پر مزید پابندیاں لگائیں تو روس کی فضائی حدود میں پروازوں پر بین الاقوامی پروازوں کے گزرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔
توقع ہے کہ یورپی یونین کچھ دیر میں اس کا فیصلہ کرے گی کہ آیا روس پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ یورپی یونین کے بقول اس فیصلے کا دارومدار یوکرین کی تازہ صورت حال پر ہو گا۔
روسی روزنامے سے بات چیت میں روس کے وزیرِ اعظم دمتری میدویدیف کا کہنا تھا کہ ’اگر یورپی یونین کی جانب سے نئی پابندیاں توانائی کے شعّبے میں لگائی گئیں اور یا روس کے ما لیاتی سیکٹر پر مزید پابندیاں لگائی گئیں تو ہمیں اس کا بھرپور جواب دینا ہو گا۔‘
ان کے بقول روسی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی پہلے ہی سے مشکلات کا شکار کئی بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں کو دیوالیہ کر دے گی۔
یوکرین میں اپریل سے شروع ہونے والے تصادم میں اب تک 2,600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جمعے کو یوکرین کی حکومت اور روس نواز باغیوں کے درمیان یوکرین کے شہر منسک میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے بارے میں ابتدائی مفاہمت طے پائی تھی۔
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی تھی جب روس نواز باغیوں نے اپریل میں کرائمیا کے علاقے کے روس سے الحاق کے ایک ماہ بعد یوکرین کے مشرقی شہروں دونیتسک اور لوہانسک پر قبضہ کر لیا تھا۔
یوکرین اور مغربی ممالک روس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کی امداد کے لیے اپنے فوجی بھیج رہا ہے تاہم روس ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔
روس کی جانب سے بین الاقوامی پروازوں کے اپنی حدود سے گزرنے پر پابندی سے ایشیائی ممالک جانے والی پروازیں نہ صرف مہنگی ہو جائیں گی بلکہ فاصلہ بڑھنے سے سفر بھی زیادہ وقت میں طے ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے یورپی یونین کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ روس کے خلاف متوقع نئی پابندیاں سے کیپیٹل مارکیٹ تک روس کی رسائی کے علاوہ، حساس ٹیکنالوجیز اور فوجی و دفاعی شعبے متاثر ہوں گے۔
جب کہ روس کے حکام اور روس نواز باغیوں پر ویزوں کے حصول پر پابندیوں کے علاوہ اثاثے ضبط کرنے جیسے اقدامات کا دائرۂ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔
یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر پیٹرو پروشنکو پیر کو شمال میں یوکرین کے کنٹرول میں رہ جانے والے آخری قصبے مریوپل کا دورہ کریں گے۔
یوکرین کے سکیورٹی حکام کے مطابق باغیوں کے ساتھ لڑائی میں اب تک ساڑھے آٹھ سو سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔







