غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید تین ہلاک

اسرائیلی حملوں میں اب تک دو ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسرائیلی حملوں میں اب تک دو ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں

اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب فلسطین میں حملوں میں تیزی لانے کے احکامات کے بعد غزہ پر جنگی طیاروں کے حملے میں مزید تین افراد مارے گئے ہیں۔

فلسطین کے طبی عملے اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں وسطی غزہ میں اس وقت ہوئیں جب ایک مکان بمباری کا نشانہ بنا۔

اس سے قبل فلسطینی حکام نے جمعے کو چار ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

فلسطین پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے دو ہزار نوّے فلسطینی اور 67 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں سے بیشتر عام شہری تھے جبکہ اسرائیلی ہلاک شدگان فوجی تھے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے غزہ سے کیے جانے والے مارٹر حملے میں ایک اسرائیلی لڑکے کی ہلاکت کے بعد عسکری کارروائیوں میں شدت لانے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو فلسطین سے اسرائیل پر 80 سے زیادہ راکٹ داغے گئے جبکہ اس نے جواب میں 30 فضائی حملے کیے جن میں سے ایک میں غزہ شہر میں ایک مکان تباہ ہوا جس سے 40 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

حماس لڑکے کی ہلاکت کی بھاری قیمت ادا کرے گی:نتن یاہو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحماس لڑکے کی ہلاکت کی بھاری قیمت ادا کرے گی:نتن یاہو

وزیرِ اعظم کے ترجمان اوفیرگینڈلمین نے ٹوئٹر پر ان کے حوالے سے کہا ہے کہ ’حماس لڑکے کی ہلاکت کی بھاری قیمت ادا کرے گی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج اور شن بیت سکیورٹی سروس حماس کے خلاف آپریشن میں تیزی لائیں گے تاکہ اسرائیلی کارروائی کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکے۔

جمعرات کو اسرائیل نے فضائی حملوں میں حماس کے تین کمانڈر ہلاک کیے تھے۔

اطلاعات کے مطابق جمعے کو حماس نے ایسے 18 افراد کو بھی ہلاک کیا ہے جن پر اسرائیل کے لیے کام کرنے کا الزام تھا۔

حماس کے ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 11 افراد کو ایک غیرآباد پولیس سٹیشن میں ہلاک کیا گیا جبکہ عینی شاہدین کے مطابق بقیہ سات کو حماس کی وردیوں میں ملبوس افراد نے وسطی غزہ میں العمری مسجد کے سامنے گولیاں ماریں۔