غزہ میں سکول پر بمباری میں 20 فلسطینی پناہ گزین ہلاک

حماس کے ایک رہنما نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا کہ فلسطینی جنگجو غزہ میں قیامِ امن کے لیے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے راضی ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحماس کے ایک رہنما نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا کہ فلسطینی جنگجو غزہ میں قیامِ امن کے لیے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے راضی ہیں

غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور بدھ کو علی الصبح تازہ کارروائیوں میں مزید 32 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے طبی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کو غزہ پر ہونے والی اسرائیلی بمباری میں 32 فلسطینی ہلاک ہوئے۔

<link type="page"><caption> جنگجو جنگ بندی کے لیے تیار نہیں: حماس رہنما</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/07/140729_gaza_situation_escalates_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق تازہ اسرائیلی بمباری میں جبالیا کے مہاجر کیمپ میں اقوامِ متحدہ کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا جس میں 20 افراد ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوامِ متحدہ کے حکام نے سکول پر بمباری کی تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے وہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 بتائی ہے۔

تین ہزار سے زائد فلسطینیوں نے اس سکول میں پناہ لی تھی جس کو بغیر کسی وارننگ کے نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے رات کو کئی ٹھکانوں کو ہدف بنایا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بدھ کو تازہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 43 بتائی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ان حملوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے۔

غزہ میں کشیدگی 23ویں دن میں داخل ہو گئی ہے اور فلسطینی حکام کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اسرائیلی حملوں میں 6700 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔

اسرائیل کے مطابق حالیہ کشیدگی میں ان کے 53 فوجی اور تین عام شہری مارے گئے ہیں جن میں ایک تھائی مزدور بھی تھا۔

ادھر اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ ان کے وسائل ختم ہو رہے ہیں اور اس نے خبردار کیا ہے کہ دو لاکھ بے گھر افراد کی براہِ راست ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔

دریں اثنا بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قابو پانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کرانے کے لیے قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کی ملاقات متوقع ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو اسرائیلی ٹی وی چینلوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ بات چیت کے لیے فلسطینی وفد قاہرہ پہنچ رہا ہے اور کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔

اس سے پہلے حماس کے ایک رہنما نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا کہ فلسطینی جنگجو غزہ میں قیامِ امن کے لیے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے راضی ہیں۔

ہزاروں فلسطینیوں نے اقوامِ متحدہ کے سکول میں پناہ لی ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہزاروں فلسطینیوں نے اقوامِ متحدہ کے سکول میں پناہ لی ہوئی تھی

حماس کے عسکری ونگ کے رہنما محمد دائف کا کہنا تھا کہ ان کے فوجی ’موت کے لیے بے تاب‘ ہیں۔

اس نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا تھا جب غزہ پر شدید بمباری کے ایک اور دن کے بعد علاقے کا واحد پاور پلانٹ بھی تباہ ہو گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس پلانٹ کو دوبارہ چلانے کے قابل بنانے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

غزہ میں حکام نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کی طرف سے طویل مدتی کارروائی کی دھمکی کے بعد غزہ پر پیر اور منگل کی درمیانی شب زمین، سمندر اور فضا سے شدید بمباری کی گئی جس میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق منگل کی صبح اسرائیل نے اسمٰعیل ہنیہ کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روئٹرز کے مطابق حملے کے وقت اسمٰعیل ہنیہ کا گھر خالی تھا۔