غزہ سکول پر حملے کا ذمہ دار اسرائیل ہے: اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہAP
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بار بار خبردار کیے جانے کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے ایک سکول پر تباہ کن حملہ کر کے بچوں سمیت 15 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس سکول میں فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کرس گنیس نے کہا ہے کہ یہ حملہ ’پوری دنیا کی تذلیل ہے۔‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سکول کے قریب سے مارٹر گولے داغے گئے تھے جس کے جواب میں اس کے فوجیوں نے کارروائی کی۔
غزہ میں جاری لڑائی میں اب تک 1200 تک فلسطینی اور 55 اسرائیلی، جن میں 53 فوجی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔
شدت پسند تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک لڑنے کے لیے تیار ہے جب تک اسرائیل کی طرف سے گذشتہ سات سال سے جاری غزہ کی اقتصادی ناکہ بندی ختم نہیں کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہap
حماس اور اسرائیل کے درمیان موجودہ فوجی تصادم سب سے زیادہ طویل ہو گیا ہے۔ سنہ 2012 میں ہونے والی لڑائی آٹھ دن تک جاری رہی تھی جبکہ سنہ 2008 میں فریقین کے درمیان لڑائی 22 دن بعد ختم ہو گئی تھی۔
موجودہ لڑائی میں اسرائیل نے دس تک غزہ پر مسلسل فضائی، بحری اور بری فوج کی بمباری کے بعد زمینی کارروائی شروع کی تھی۔
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ کے سربراہ کرس گِنیس نے کہا ہے کہ اسرائیل فوج کو 17 مرتبہ بتایا گیا تھا کہ جبالیا کے سکول میں مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے کہا آخری مرتبہ حملے سے چند گھنٹے قبل انھیں بتایا گیا تھا کہ سکول میں شہریوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی طرف سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نےسکول کو نشانہ بنایا۔
کرس گنیس نے کہا کہ اپنے والدین کے پہلو میں سوئے ہوئے بچے بھی اس حملے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ اس حملے میں عورتوں اور بچوں سمیت متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور یہ واقعہ عالمی شرمندگی کا باعث ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حملے کے بعد سکول کی تصاویر میں دیواروں اور چھتوں میں بڑے بڑے شگاف دیکھے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے غزہ میں امدادی کارروائیوں کے ڈائریکٹر باب ٹرنر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہے کہ اسرائیل ہی اس کا ذمہ دار ہے۔
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے سکول کی عمارت کے ملبے سے بموں کے ٹکڑے جمع کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آرٹلری بم ہیں جو سکول کے شمال مشرق سے اسرائیل فوج نے فائر کیے تھے۔
اسرائیل اس طرح کے واقعات کے بعد ان کی ذمہ داری حماس پر عائد کرتا ہے کہ حماس ان جگہوں کو اسرائیلی فوج پر راکٹ داغنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
گذشتہ ہفتے بھی اقوام متحدہ کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 15 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل کی بمباری میں مساجد، سکول، رہائشی عمارتیں حتیٰ کہ ہسپتال تک نشانہ بنے ہیں۔
درین اثنا حماس اور فتح گروہوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں بات چیت متوقع ہے۔







