اسرائیلی فضائی حملوں میں نو فلسطینی ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں میں نو فلسطینی عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جس پر حماس کی مسلح شاخ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اس کی ’بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔‘
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی مسلح شاخ نے کہا کہ شمال میں رفح کے قریب ایک فضائی حملے میں ان کے چھ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
جبکہ غزہ سے اسرائیل پر کم از کم 20 راکٹوں حملوں کے جواب میں اسرائیل کی طرف سے فضائی کارروائی میں تین دیگر شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
<link type="page"><caption> ’ابوخضیر کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/07/140706_netanyahu_pledges_justice_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ سنہ 2012 کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے اسلامی گروپ حماس کے خلاف یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔
ایمرجنسی سروس کے حکام نے رفح میں اسرائیلی فضائی حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور چار دیگر افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ منہدم عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ ساتواں شخص ایک اور فضائی حملے میں ہلاک ہوا۔
اس سے پہلے مرکزی غزہ میں مہاجرین کے کیمپ پر ایک علیحدہ فضائی حملے میں دو دیگر فلسطینی عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے اور ان حملوں میں ’شدت پسندوں کے ٹھکانوں‘ اور پوشیدہ راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا گیا۔
لیکن حماس کی مسلح شاخ عزالدین القسام بریگیڈ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل کو ان حملوں کی ’بڑی قمیت چکانی پڑے گی۔‘
کئی دنوں سے غزہ کی سرحد پر فریقین کے درمیان راکٹ حملے اور جوابی فضائی حملے ہوتے رہے ہیں۔
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کانولی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا کاروں کی تلاش کے دوران حماس کے سینکڑوں اراکین کو گرفتار کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ شاید اسی وجہ سے غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملوں میں اچانک تیزی آئی ہے۔
اس سے پہلے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے فلسطینی نوجوان محمد ابوخضیر کو ’زندہ جلانے‘ کے واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا تھا۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ بات بدھ کو یروشلم میں پولیس کی جانب سے نوجوان محمد ابوخضیر کو ’زندہ جلانے‘ کے کیس میں چھ مشتبہ یہودیوں کو حراست میں لینے کے بعد کہی تھی۔
بنیامن نتن یاہو نے ٹی وی کو دیے جانے والے ایک بیان میں کہا: ’ہم خطے کو جلانے اور خونریزی کے لیے انتہا پسندی کی اجازت نہیں دیں گے، چاہے وہ کسی بھی جانب سے ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ قتل قتل ہے اور اشتعال پسندی اشعال پسندی ہے، ہم دونوں کو پوری طاقت سے کچل دیں گے۔
ادھر پولیس کو یقین ہے کہ ابوخضیر کو ان کی شہریت کی وجہ سے مارا گیا۔ ابوخضیر کی موت تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور ہلاکت کے بعد ہوئی۔ ان واقعات کے بعد خطے میں صورتِ حال کشیدہ ہے۔
محمد ابوخضیر کی جمعے کو تدفین سے پہلے اور بعد میں مشرقی یروشلم میں سینکڑوں فلسطینی نوجوانوں کا اسرائیلی پولیس کے ساتھ تصادم ہوا جس میں پولیس نے اشکبار گولوں کا استعمال کیا اور 20 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔
اس سے پہلے فلسطین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد پر اضافی فوج تعینات کر دی تھی۔







