’صحافیوں کی سزا کے فیصلے میں مداخلت نہیں‘

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے صدر عبدالفتح السیسی سے آسٹریلیا کے شہری اور صحافی پیٹر گریسٹے کو رہا کرنے کی درخواست کی ہے

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے صدر عبدالفتح السیسی سے آسٹریلیا کے شہری اور صحافی پیٹر گریسٹے کو رہا کرنے کی درخواست کی ہے

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کی جانب سے تین صحافیوں کو سزا دینے کے فیصلے میں مداخلت نہیں کریں گے۔

ایک دن پہلے پیر کو مصر کی عدالت نے الجزیرہ کے تین صحافیوں کو مبینہ طور پر غلط خبریں نشر کرنے اور محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی حمایت کرنے کا الزام میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

صدر عبدالفتح السیسی کے مطابق اگر دوسرے اس بات کو نہ بھی سمجھیں تو ہمیں عدالتی فیصلوں پر تنقید کی بجائے ان کا احترام کرنا چاہیے۔

ان تین صحافیوں کو گذشتہ اگست میں پولیس کی طرف سے سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں کو منشتر کرنے کے موقعے پر گرفتار کیا تھا۔

بی بی سی کے سابق نامہ نگار پیٹر گریسٹے اور ان کے ساتھی محمد فہیمی اور باہر محمد پر غلط خبریں نشر کرنے اور محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔ حکومت نے اخوان المسلمین کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے مصری عدالت کے فیصلے سے قبل آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے مصر کے صدر عبدالفتح السیسی سے درخواست کی کہ آسٹریلوی شہری اور بی بی سی کے سابق نامہ نگار پیٹر گریسٹے کو رہا کیا جائے۔

تینوں صحافی اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور سزا کے خلاف اپیل کریں گے
،تصویر کا کیپشنتینوں صحافی اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور سزا کے خلاف اپیل کریں گے

اس سے قبل پچھلے ہفتے مصر میں حکام نے معروف ٹی وی نیٹ ورک الجزیرہ کے صحافی عبداللہ الشامی کو طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عبداللہ الشامی بغیر کسی الزامات کے قید میں رکھے جانے کے خلاف گذشتہ پانچ ماہ سے بھوک ہڑتال پر تھے۔

انھیں گذشتہ اگست میں پولیس کی طرف سے سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں کو منشتر کرنے کے موقعے پر گرفتار کیا تھا۔

استغاثہ کے وکلا نے تمام ملزمان کے لیے 15 سال قید کے سزا کی درخواست کی ہے۔

قطر میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک پر مصر میں کام کرنے پر پابندی ہے۔ مصری حکام الجزیرہ پر محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے حق میں خبریں نشر کرنے کا الزام لگاتے ہیں جس کی الجزیرہ مسلسل تردید کرتا ہے۔