عراق کا بحران ہماری پیداوار نہیں: ٹونی بلیئر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراق میں حالیہ پرتشدد شورش کا الزام سنہ 2003 میں عراق پر اتحادی فوجوں کی چڑھائی پر نہیں لگایا جا سکتا ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر سنہ 2003 میں صدام حسین کا تختہ نہ بھی الٹا جاتا، تب بھی عراق کو آج ’بڑے مسئلے‘ کا سامنا ہوتا۔

ٹونی بلیئر کا اصرار تھا کہ عراق کا حالیہ بحران ایک ایسا مسئلہ ہے ’جس کے اثرات ہم سب پر ہو رہے ہیں‘ اور انھوں نے زور دیا کہ مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ خطے میں مداخلت کریں۔

دوسری جانب ناقدین نے ٹونی بلیئر کے اس بیان کو ’بے تُکا‘ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے اور ایک ناقد نے اس بیان کے بعد الزام لگایا ہے کہ ٹونی بلیئر عراق کی صورتِ حال کے حوالے سے ’اپنی ذمہ داری سے ہاتھ دھونے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ اس بات میں ’کوئی وزن نہیں‘ کہ اگر صدام کو اپنی جگہ پر رہنے دیا جاتا تو آج عراق مستحکم ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ سنہ 2003 میں صدام کو رہنے دیتے تو پھر آپ نے دیکھا کہ سنہ 2011 میں پوری عرب دنیا میں انقلابات کی لہر آ گئی تھی۔تیونس، لیبیا اور یمن اور بحرین ہر جگہ انقلاب آ رہا تھا، (اس کا مطلب ہے کہ) تب بھی عراق میں بہت مسائل ہوتے۔

’شام کی صورتِ حال آپ کے سامنے ہے، یہی ہوتا جب آپ اسد جیسے ایک آمر کو اپنی جگہ پر رہنے دیتے ہیں۔ میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہم سنہ 2003 کے واقعات پر نئے سرے سے بحث کر سکتے ہیں، اور اس حوالے سے دونوں جانب پر پورے دلائل موجود ہیں، لیکن اب جبکہ ہم سنہ 2014 میں کھڑے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے لیکن ایک ایسا علاقائی مسئلہ جس کے اثرات ایک دن ہم پر بھی مرتب ہوں گے۔‘

اس کے علاوہ ٹونی بلیئر نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ برطانیہ کو چاہیے کہ وہ شام میں بھی مداخلت کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شام کے معاملے میں بے عملی کا مظاہرہ کیا گیا تو برطانیہ کی سرزمین پر اس کے منفی نتائج مرتب ہوں گے۔

ٹونی بلیئر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے رائل یونائیٹڈ سٹیٹ انسٹیٹیوٹ سے منسلک مائیکل سٹیفن کا کہنا تھا کہ عراق میں پرتشدد کارروائیوں کا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل رہا ہے اس میں برطانیہ کا بھی حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ ’ٹونی بلیئر (عراق کی صورتِ حال) کی ذمہ داری لینے سے ہاتھ دھو رہے ہیں، تاہم میں ٹونی بلیئر کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اب ہم عراق کی موجودہ صورتِحال کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتے۔‘

مائیکل سٹیفن کا کہنا تھا کہ ’ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ عراق اور شام ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر تشدد کے نہ ختم ہونے والے دور میں نہ داخل ہو جائیں، ہمیں کوئی نہ کوئی کردار ضرور ادا کرنا چاہیے۔‘

امریکہ میں برطانیہ کے سابق سفیر سر کرٹوفر مئر نے ٹونی بلیئر کے انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں خطے میں جاری موجودہ فرقہ وارانہ تشدد کی شاید ’سب سے بڑی وجہ‘ وہ طریقہ تھا جس طرح ہم نے صدام کے خلاف مہم چلائی۔

برطانوی اخبار ’میک آن سنڈے‘ میں ایک مضمون میں سر کرسٹوفر مئر نے کہا کہ ’ ہم نے جو سنہ 2003 میں بویا تھا، آج اسی کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ اور یہ بات ہمیں آج معلوم نہیں ہوئی، بلکہ عراق پر چڑھائی سے پہلے ہی ہمیں معلوم تھا کہ جب آپ صدام حسین کے 24 سالہ آہنی دور کو ان کا تختہ الٹ کر ختم کریں گے تو عراق بری طرح غیر مستحکم ہو جائے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق وزیرِاعظم کا مذید کہنا تھا: ’میرا کہنا یہ ہے کہ ہمیں شام کے معاملے میں ویسا نہیں کرنا چاہیے جیسا ہم نے عراق یا افغانستان میں کیا، لیکن آپ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارا مفاد اسی میں ہے کہ ہم شام میں مداخلت کریں۔ اگر ان شدت پسندگروہوں کو پھلنے پھولنے کی اجازت دی گئی تو کل یہ گروہ ہمیں ہماری سرحدوں کے اندر اور باہر، دونوں جگہ خطرات سے دوچار کر دیں گے۔‘

لیبر حکومت میں وزیر رہنے والی رہنما کلیئر شارٹ، جنہوں نے عراق میں جنگ کے خلاف اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، نے ٹونی بلیئر کے بیان پر کہا کہ مسٹر بلیئر ’بالکل غلط ہیں، غلط ہیں، غلط ہیں۔ وہ مکمل طور پر امریکی قدامت پسند ہو چکے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ فوجی کاروائی، بم اور حملے ہی مسئلے کا حل ہیں، حالانکہ اسی پالیسیوں سے خطے میں مذید تناؤ، غصہ، تقسیم اور ہمارے لیے برے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔‘