چین پر جاپان اور امریکہ کی تنقید ’ناقابلِ قبول‘

،تصویر کا ذریعہAFP
چین نے سنگاپور میں ایشیائی سلامتی فورم میں جاپانی وزیر اعظم اور امریکی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کی ہے۔
چینی فوجی جنرل وانگ گوانژونگ نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل اور جاپانی وزیر اعظم شنزو ابے کے ’شینگریلا ڈائلاگ‘ میں کی جانے والی تنقید ’ناقابل قبول‘ ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا تھا کہ ’جنوبی چین کے سمندروں (ساؤتھ چائنا سی) میں چین عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔‘
دریں اثنا جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو زیادہ تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ چین کے ویت نام اور فلپائن کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات اور شمالی چائنا سی کے حوالے سے چین اور جاپان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے ماحول میں اس فورم کے تحت امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک یکجا ہیں۔
بظاہر اپنے پہلے سے تیار شدہ خطاب سے گریز کرتے ہوئے مسٹر وانگ نے جاپانی وزیر اعظم اور امریکی وزیر دفاع پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور چین کے خلاف اپنے تند وتیز بیانات سے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’چین کے خلاف اس قسم کی غیر ضروری تنقید ناقابل تصور ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ
جمعے کو اپنے اہم خطاب میں جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے نے علاقے میں تنازعات کے حل کے لیے اپنے مزید طاقتور کردار کے تصور کو پیش کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ان ممالک کو ساحلی علاقوں میں نگرانی کے لیے چھوٹے بحری جہاز دینے کی پیشکش بھی جنھیں چینی ہتھکنڈوں سے تشویش ہے۔
اس وقت چین نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ مسٹر ابے چین سے خطرے کی ’خیالی کہانی‘ سے جاپان کی سکیورٹی پالیسی کو تقویت دینا چاہتے ہیں۔
بعد میں مسٹر ہیگل نے اپنے بیان سے اس کو مزید تقویت پہنچائی۔ انھوں نے کہا کہ چین نے جنوبی چین کے پانیوں میں ایسے یکطرفہ اقدامات کیے ہیں جو کہ خطے کا توازن خراب کر رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں جنوبی چین کے سمندروں میں تناؤ اس وقت بڑھ گیا تھا جب چین نے اپنے مشرقی سمندر کو فضائی دفاع کا علاقہ قرار دے دیا اور ساؤتھ چائنا سی کے متنازعہ جزیروں پر زیادہ جارحانہ پالیسی اپنا لی تھی۔
نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ چین کے ساتھ اپنے معاشی اور سیاسی تعلقات کی وجہ سے خطے کے کچھ ممالک چین کو ناراض کرنے میں ہچکچائیں گے، لیکن لگتا ہے کہ کچھ ممالک خطے میں جاپان کے بڑے کردار کو خوش آمدید کہیں گے۔







