چین خطے میں عدم استحکام کا باعث ہے : امریکہ

چین نے ایسے یکطرفہ اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ خطے کا توازن خراب کر رہے ہیں: چک ہیگل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچین نے ایسے یکطرفہ اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ خطے کا توازن خراب کر رہے ہیں: چک ہیگل

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل نے چین پر الزام لگایا ہے کہ جنوبی چین کے سمندروں (ساؤتھ چائنا سی) میں اس کے اقدامات خطے میں دیرپا ترقی کا ’توازن خراب‘ کر رہے ہیں۔

چک ہیگل کا کہنا ہے کہ اگر اقوام عالم بین الاقوامی قوانین کی پرواہ نہیں کریں گی تو امریکہ اپنی ’نظریں دوسری طرف نہیں پھیر سکتا۔‘

امریکی وزیر دفاع نے یہ بات امریکہ اور جنوبی ایشیائی ممالک کی مشترکہ تنظیم ’شینگریلا ڈائیلاگ‘ کی تین روزہ سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

چین پر تنقید کے علاوہ امریکی وزیر دفاع نے تھائی لینڈ میں حکومت کا تختہ الٹنے والوں پر بھی زور دیا کہ وہ جلد ہی ملک میں جمہوریت بحال کریں۔

شنگریلا ڈائیلاگ کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین، ویتنام اور فلپائن کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ’ساؤتھ چائنا سی‘ کے علاقے کے جزیروں پر تنازعات کی وجہ سے چین اور جاپان کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔

سنیچر کو اس فورم سے خطاب کرتے ہوئے چک ہیگل نے کہا کہ چین نے جنوبی چین کے پانیوں میں ایسے یکطرفہ اقدامات کیے ہیں جو کہ خطے کا توازن خراب کر رہے ہیں۔

گذشتہ عرصے میں چین نے جس طرح جاپان، فلپائن اور ویتنام کے قریب سمندری علاقوں پر اپنا علاقائی حق جتلایا ہے، اس کا حوالہ دیتے ہوئے چک ہیگل نے کہا کہ ’ہم ہر اس ملک کی پوری طرح مخالفت کرتے ہیں جو ڈرا دھمکا کر، زبردستی یا طاقت کے استعمال کی دھمکی دے کر اپنا دعویٰ منوانے کی کوشش کرے۔‘

’چین سمیت خطے کی تمام اقوام کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ یا تو متحد ہو کر خطے میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں یا وہ اس سے انکار کرتے ہوئے خطے میں اُس امن اور سکیورٹی کو داؤ پر لگا دیں جس سے لاکھوں لوگ مستفید ہو چکے ہیں۔‘

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ جاپانی وزیرِ اعظم کی اس پیشکش کی حمایت کرتے ہیں جس کا اعادہ جاپانی وزیر ِاعظم شِنزو ابے نے جمعے کو اپنے صدارتی خطاب میں کیا تھا۔ جاپانی وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں امریکہ سے کہا تھا کہ وہ خطے کی سکیورٹی کے لیے زیادہ مستعدی سے کام کرے اور ایک بڑا کردار ادا کرے۔

جاپانی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے کے ایسے ممالک کو ساحلی علاقوں میں نگرانی کے لیے چھوٹے بحری جہاز دے سکتا ہے جو چین کے ہتھکنڈوں سے فکرمند ہیں۔

متنازعہ سمندروں میں ویتنام اور چین کے جہاز ایک دوسرے سے الجھ چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمتنازعہ سمندروں میں ویتنام اور چین کے جہاز ایک دوسرے سے الجھ چکے ہیں

اس کے جواب میں چین کے سرکاری افسران کا کہنا تھا کہ جاپانی وزیرِاعظم چین کی طرف سے خطے کے ممالک کو خطرے کی ’تخیلاتی کہانی‘ سنا کر دراصل جاپان کی اپنی سکیورٹی پالیسی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں جنوبی چین کے سمندروں میں تناؤ اس وقت بڑھ گیا تھا جب چین نے اپنے مشرقی سمندر کو فضائی دفاع کا علاقہ قرار دے دیا اور ساؤتھ چائنا سی کے متنازعہ جزیروں پر زیادہ جارحانہ پالیسی اپنا لی تھی۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ چین کے ساتھ اپنے معاشی اور سیاسی تعلقات کی وجہ سے خطے کے کچھ ممالک چین کو ناراض کرنے میں ہچکچائیں گے، لیکن لگتا ہے کہ کچھ ممالک خطے میں جاپان کے بڑے کردار کو خوش آمدید کہیں گے۔