دبئی میں پالتو جانوروں کے لیے ٹیکسی سروس

،تصویر کا ذریعہReuters
دبئی میں پالتو جانوروں کی لیے شروع کی جانے والی ٹیکسی سروس مقبول ہو رہی ہے۔
دبئی میں پبلک ٹرانسپورٹ میں پالتو جانور کے ساتھ سفر کرنے پر پابندی ہے۔
گلف نیوز کے مطابق دبئی میں مقیم ایک برطانوی شہری نے گذشتہ سال اکتوبر میں اس وقت یہ سروس شروع کی جب ان کے ایک دوست نے اپنے پالتو کتے کو جانوروں کے ڈے کیئر مرکز پہنچانے میں مدد کی درخواست کی۔
<link type="page"><caption> پالتو جانوروں پر سالانہ 50 ارب ڈالر خرچ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/03/120303_pet_expenses_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
آرتھر اوبن کے مطابق گذشتہ کئی ماہ کے دوران انھوں نے ایک سو سے زائد پالتو جانوروں کو ٹیکسی کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا۔
انھوں نے کہا کہ ان میں زیادہ تر کو ڈے کیئر کے مراکز اور جانوروں کے ڈاکٹروں کے کلینک پہنچایا۔
آرتھر اوبن کے مطابق وہ ایئرپورٹ سے بھی پالتو جانوروں کو گھروں میں پہنچاتے ہیں کیونکہ وہاں عام ٹیکسی ڈرائیور پالتو جانوروں کو گاڑی میں بیٹھانے سے انکار کر دیتے ہیں۔
اسلامی قوانین کے مطابق کتے کو ناپاک سمجھا جاتا ہے، لیکن دبئی میں پالتو کتے رکھنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام نے حال ہی میں پالتو جانوروں کی غیرقانونی تجارت کو روکنے کے لیے ایک خصوصی مارکیٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس مارکیٹ میں صرف وہ کتے، بلیاں اور پرندے دستیاب ہوں گے جنھیں پالنے کی اجازت ہو گی۔







