’پاکستان میں ڈرون حملے امریکی فضائیہ کرتی ہے‘

اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی تنظیمیں ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ سمیت کئی عالمی تنظیمیں ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں

ایک دستاویزی فلم میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی ریاست نیواڈا میں فضائیہ کی ایک یونٹ کے پاس پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی ذمہ داری ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ دستاویزی فلم جمعرات کو جاری ہو گی۔

اس فلم کو تیار کرنے میں تین سال لگے اور اس میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے والے یونٹ کی شناخت سترویں سکواڈن کے طور پر کی گئی ہے اور یہ لاس ویگاس سے 45 میل دور مہاوی صحرا میں واقع فضائیہ کے اڈے کے ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں قائم ہے۔

ڈرون طیارے چلانے والے کئی سابق اہلکاروں کے مطابق اس یونٹ کو سویلین کنٹریکٹرز کی بجائے امریکی فضائیہ کے اہلکار چلاتے ہیں۔ سی آئی اے کے پاکستان میں گذشتہ دس سال سے جاری مسلح ڈرون حملوں میں بعض اندازوں کے مطابق 24 سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

گارڈین نے گذشتہ ہفتے قومی سلامتی کی کونسل، سی آئی اے اور پینٹاگون سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو نیشنل سکیورٹی کونسل اور سی آئی اے نے بیان دینے سے انکار کر دیا جبکہ پینٹاگون نے جواب نہیں دیا۔

پاکستان کے علاوہ یمن اور صومالیہ میں بھی ڈرون حملے کیے جاتے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے علاوہ یمن اور صومالیہ میں بھی ڈرون حملے کیے جاتے ہیں

دستاویزی فلم ڈرون میں سکواڈ کے کردار اور اس میں فضائیہ کے حاضر سروس اہلکاروں کو سی آئی اے کے ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے پروگرام میں استعمال کرنے کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب ڈرون طیارے اڑانے والے دو سابق اہلکاروں کا انٹرویو کیا گیا۔

ڈرون طیارے سابق آپریٹر برینڈن برینٹ نے بتایا کہ انھوں نے اس وقت بولنے کا فیصلہ کیا جب گذشتہ سال اوباما انتظامیہ میں سینیئر اہلکاروں نے ایک بریفنگ میں آگاہ کیا کہ وہ ڈرون کے خفیہ پروگرام کو سی آئی اے سے فوج کو’منتقل‘ کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ گمراہ کن تھا کیونکہ فوج میں پہلے ہر ایک بڑا حلقہ یہ جانتا تھا کہ امریکی فضائیہ اس پروگرام میں شریک ہے۔

ہو سکتا ہے کہ سی آئی اے اس کی گاہک ہو لیکن ڈرون فضائیہ ہی اڑاتی تھی اور اس پر سی آئی اے کا ٹھپہ لگانے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو معلومات فراہم نہ کرنا پڑے اور اس کا شروع سے یہ ہی کردار رہا ہے۔

17ویں سکواڈرن کا حوالہ دیتے ہوئے سابق ڈرون آپریٹر مائیل ہس نے کہا کہ’ اہلکاروں کے ایک بڑے حلقے میں یہ جاننا جاتا تھا کہ سی آئی اے ان کے مشن کو کنٹرول کرتا ہے۔‘

ڈرون طیارے اڑانے والے چھ سابق اہلکار جنھوں نے اس یونٹ کے ساتھ کام کیا ہے اور انھیں ڈرون پروگرام کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل ہیں۔ انھوں نے دعوؤں کی تصدیق کی لیکن اس مسئلے کی نزاکت کی وجہ سے سامنے آ کر بات کرنے سے گریز کیا۔

ان میں سے ایک نے کہا کہ:’ہر کوئی سی آئی اے کے پاکستان، صومالیہ اور یمن میں آپریشنز کے بارے میں بات کرتا ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ ڈرون پروگرام کا تمام کریڈٹ صرف سی آئی اے کو دینا چاہیے۔

فضائی اڈے پر 300 اہلکار ہیں جو 35 ڈرون طیارے اڑاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنفضائی اڈے پر 300 اہلکار ہیں جو 35 ڈرون طیارے اڑاتے ہیں

ہو سکتا ہے کہ وہ اس مشن کو چلاتے ہوں، ہو سکتا ہے کہ ان کے کوئی مقاصد ہیں اور ان کو حاصل کرتےہیں لیکن وہ ڈرون طیاروں کو اڑاتے نہیں ہیں۔‘

ایک اور سابق اہلکار کے مطابق 17ویں سکواڈرن کے اہلکاروں کی شناخت کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ وہ کسی دوسرے سے بات اور میل ملاپ نہیں کرتے ہیں۔

نیشنل سکیورٹی پر شہری آزادی کی یونین کی ڈائریکٹر حنا شمسی کے مطابق اس سے قانونی تقاضے پورے کیے جانے کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں۔

حنا شمسی نے ڈرون حملوں میں امریکی فضائیہ کے ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سامنے آنے والی معلومات درست ہیں تو ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے پروگرام کے قانونی تقاضوں اور اس کو خفیہ رکھنے کے بارے میں مزید سوالات اٹھیں گے۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

انھوں نے کہا کہ’ یہ زیادہ تر امریکیوں کے لیے ایک حیران کن بات ہو گی کہ سی آئی اے فوج کو ہدایت دے رہی ہے کہ وہ جنگی کارروائیاں کرے۔‘

’ہم صحیح طرح سے یہ نہیں جانتے کہ سی آئی اے کس طرح سے اس میں کام کر رہا ہے لیکن ہمیں اس کو واضح کرنا ہو گا کہ یہ قانون کے تحت نہیں ہو رہا جو میدان جنگ اور اس سے باہر ماورائے عدالت ہلاکتوں کو روکتا ہے۔ اب ہمیں یہ کہنا ہو گا کہ آیا جس طرح سی آئی اے اس مہلک پروگرام کو خفیہ رکھتا ہے اور یہ جواز اس کو ڈھال اور تلوار فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ہلاکتوں کی سرگرمیوں میں مصروف باقاعدہ فوج ان قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘

گذشتہ سال امریکی کانگریس کی سماعت کے موقع پر پریشان کن انداز میں یہ واضح کیا گیا کہ کانگریس کی اس مہلک پروگرام پر زیادہ عمل داری نہیں ہے۔ایک مفروضے کے طور پر اگر فضائیہ کے حاضر سروس اہلکار براہ راست اس پروگرام میں ملوث ہیں تو انھیں ان قانونی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار اور قانونی امور کے دیگر ماہرین اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ ڈرون حملے مکمل یا جزوی طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

لاس ویگاس سے 45 میل کے فاصلے پر مہاوی صحرا میں واقع فضائیہ کے گریچ فوجی اڈے کا سال 1990 سے امریکی ڈرون پروگرام میں بنیادی کردار رہا ہے۔

432 ڈی ونگ امریکی فضائیہ کے چار ڈرون سکوڈرن کی نگرانی کرتا ہے اور یہ سکوڈرن افغانستان میں نگرانی اور فضائی حملوں کی ذمہ داری سرانجام دیتے ہیں۔ اسی ونگ کے اندر مختلف یونٹس کو ملا کر زیادہ خفیہ ونگ 732 این ڈی تشکیل دیا گیا ہے جو دنیا بھر میں ڈرون آپریشن چلاتا ہے۔

اس آپریشنل گروپ کے پاس ڈرون طیاروں کے چار سکواڈرن ہیں اور یہ بظاہر تمام سی آئی سے منسلک ہیں۔

30th سکوڈرن سی آئی اے سٹیلتھ ڈرون طیارے آر کیو 170 کے آزماشی پرواز اڑاتی تھی اور اس ساخت کا ڈرون دسمبر 2011 میں ایران نے پکڑ لیا تھا اور اس خبر کو دنیا بھر میں نمایاں جگہ دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ 22nd اور 867th سکواڈرن ہیں جو پہلے سے زیادہ جدید ڈرون طیاروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ عملے اور ڈرون اڑانے والے 300 اہلکار 35 کے قریب ڈرون اڑاتے ہیں اور یہ تعداد 24 گھنٹےمیں پانچ سے چھ کارروائیوں کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس اڈے سے وابستہ ایک سابق اہلکار کے مطابق فضائی اڈے گریچ میں قائم ایک اندرونی کمپاؤنڈ میں ان ڈرون طیاروں کا مرکز ہے اور اڈے پر آنے والے فوج کے اعلیٰ اہلکاروں کو بھی یہاں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اس کے علاوہ اس کی بہت حد تک تصدیق ہوئی ہے کہ یہاں سے خاص کر پاکستان کے لیے ڈرون اڑائے جاتے ہیں اور اس میں حملہ کرنے کا ارادہ بھی ہوتا ہے۔

یہاں قائم آپریشنل سیل میں بیٹھے افراد کو ہر ڈرون سے ویڈیو اور اہداف حاصل ہوتے ہیں اور ان کو دوسروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔

سابق اہلکار کے مطابق سال 2002 میں ڈرون کا ایک باقاعدہ سکواڈ قائم کیا گیا تھا۔ اور اس سال 2004 میں ایک نئے گاہک کو منتقل کیا گیا تھا اور یہ ہی وہ وقت تھا جب سی آئی اے نے پاکستان میں ڈرون حملوں کا آغاز کیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سال 2004 سے ڈرون حملوں کا آغاز ہوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقوں میں سال 2004 سے ڈرون حملوں کا آغاز ہوا

درمیانے درجے کے ایک سابق ڈرون کمانڈر کے مطابق آپریٹرز کو احکامات سی آئی اے سویلین تجزیہ کاروں سے ملتے تھے اور وہ ہی طے کرتے تھے کہ کسی کے خلاف ڈرون حملہ کرنا ہے۔

گریچ ائیر بیس نے صرف یہ تصدیق کی ہے کہ 17th سکواڈرن عالمی آپریشنز میں حصہ لے رہا ہے۔

اگرچہ سی آئی اے کے ڈرون پروگرام میں شدت پسند تنظیم القاعدہ اور طالبان کے کئی سینیئر رکن ہلاک ہو چکے ہیں ، سی آئی اے کی پاکستان میں بعض سرگرمیوں پر اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اس کے ممکنہ طور پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس میں یہ چھان بین بھی کی جا رہی ہے کہ کیا ڈرون حملوں میں نماز جنازہ کے عوامی اجتماع اور امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔