ایرانی سفیر کے امریکہ داخلے پر پابندی کے لیےقانون سازی

وائٹ ہاؤس نے ایران کو بتا دیا تھا کہ ابوطالبی کا انتخاب ’قابلِ عمل‘ نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس نے ایران کو بتا دیا تھا کہ ابوطالبی کا انتخاب ’قابلِ عمل‘ نہیں ہے

امریکی کانگریس نے صدر براک اوباما کو ایک مسودۂ قانون بھیجا ہے جس کے تحت اقوامِ متحدہ میں ایران کے منتخب کردہ سفیر کو ملک میں داخلے سے روکا جا سکے گا۔

ایوانِ نمائندگان نے سینیٹ کی جانب سے منظوری کے دو دن کے بعد اس مسودے کو اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔

حمید ابوطالبی اس طلبہ تحریک کا حصہ تھے جس نے 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے اس کے اندر موجود افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے ایران کو بتا دیا تھا کہ ابوطالبی کا انتخاب ’قابلِ عمل‘ نہیں ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد 52 امریکی شہریوں کو 444 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔ اس انقلاب کے تحت امریکہ کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے ایران کے بادشاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت معزول کر دی گئی تھی اور آیت اللہ خمینی نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔

ابوطالبی اس سے قبل بیلجیئم، یورپی یونین، اٹلی اور آسٹریلیا میں ایرانی سفیر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ایرانی میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ انھوں یرغمالوں کے تنازعے میں سفارت خانے پر قبضے کے بعد حصہ لیا تھا اور ان کا کردار ترجمے تک محدود تھا۔

وائٹ ہاؤس نے ایران کو بتا دیا تھا کہ ابوطالبی کا انتخاب ’قابلِ عمل‘ نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس نے ایران کو بتا دیا تھا کہ ابوطالبی کا انتخاب ’قابلِ عمل‘ نہیں ہے

جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا: ’ہم نے یہ بات واضح طور پر ایرانیوں کو بتا دی ہے کہ ان کا انتخاب قابلِ عمل نہیں ہے۔‘

تاہم انھوں نے یہ کہنے سے احتراز کیا کہ آیا صدر اوباما مسودۂ قانون پر دستخط کر کے اسے قانون بنا دیں گے۔

اسی دوران ایرانی حکومت نے کہا ابوطالبی کو مسترد کرنے کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ’قابلِ قبول‘ نہیں ہے۔

جمعرات کو منظور ہونے والے مسودۂ قانون کے تحت ان افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے جنھوں نے جاسوسی یا دہشت گردی میں حصہ لیا ہو اور جو قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہوں۔

یہ مسودہ ٹیکسس سے تعلق رکھنے والے رپبلکن پارٹی کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے سینیٹ میں پیش کیا تھا۔ انھوں نے صدر اوباما پر زور دیا کہ وہ اسے منظور کر لیں: ’ہم بطورِ قوم ایران جیسے بدمعاش ملکوں کو متفقہ پیغام بھیج سکتے ہیں کہ امریکہ اس قسم کا مخالفانہ اور اشتعال انگیز رویہ برداشت نہیں کر سکتا۔‘