گوانتانامو میں قید آخری برطانوی کو رہا کرنے کی کوششیں

برطانوی شہری شاکر عامر گذشتہ 12 سال سے امریکی جیل گوانتانامو میں قید ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبرطانوی شہری شاکر عامر گذشتہ 12 سال سے امریکی جیل گوانتانامو میں قید ہیں

امریکی جیل گوانتانامو بے میں قید کے خلاف متحرک ایک گروپ نے امریکی عدالت میں آخری برطانوی قیدی کی رہائی کے لیے اپیل داخل کی ہے۔

انھوں نے برطانوی قیدی شاکر عامر کی خراب صحت کی بنیاد پر یہ اپیل داخل کی ہے۔

’ریپریو‘ نامی تنظیم نے شاکر عامر کے آزادانہ طبی معائنے کا انتظام کروایا تھا۔ عامر دو بار رہائی کی منظوری کے باوجود ابھی تک جیل میں ہیں۔

تنظیم نے عامر کے جسمانی اور نفسیاتی نقصانات کی تفصیلات دیتے ہوئے برطانیہ میں ان کے علاج کی تجویز پیش کی ہے۔

لیکن مبینہ طور پر امریکہ نے انھیں صرف سعودی عرب منتقل کیے جانے کی اجازت دی ہے، جبکہ برطانیہ چاہتا ہے کہ عامر برطانیہ میں مقیم اپنے اہل خانہ سے جا ملیں۔

25 گھنٹے تک جاری رہنے والے نفسیاتی معائنے میں عامر نے شدید تشدد اور قید خانے کے جابرانہ حالات کا ذکر کیا جس کے نتیجے میں وہ دائمی مریض ہو کر رہ گئے ہیں۔

عامر نے نفسیاتی تکالیف کا بھی ذکر کیا کہ کس طرح پوچھ گچھ کرنے والے ان سے باری باری سختی اور نرمی کا سلوک روا رکھتے تھے۔ ان کی پانچ سالہ بیٹی کے ریپ کی دھمکی دیتے اور انھیں آرام نہیں کرنے دیتے تھے۔

ریپریو تنظیم گوانتانامو بے کی امریکی جیل میں قید کے خلاف متحرک ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریپریو تنظیم گوانتانامو بے کی امریکی جیل میں قید کے خلاف متحرک ہے

میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عامر پوسٹ ٹراما سٹریس ڈس آرڈر یعنی صدمے کے بعد کے ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اور ذہنی خلل جیسے امراض میں مبتلا ہیں۔

جانچ کرنے والی ڈاکٹر نے کہا کہ عامر کی حالت ایسی ہے کہ گوانتانامو میں ان کا علاج ناممکن ہے۔

عامر کا معائنہ کرنے والی ڈاکٹر ایملی کرم نے کہا: ’عامر کے قید کی طوالت، عدم یقینی اور دباؤ نے ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ وہ اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ انھوں نے کیا کھویا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’عامر کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے اس کے ساتھ اپنے خاندان اور معاشرے میں ان کو پھر سے شامل کرنے کی ضرورت ہے اور انھیں پھر سے ٹراما میں جانے کے خیال اور اس کی یادوں سے چھٹکارے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر انھیں ان کی جائے پیدائش والے ملک سعودی عرب بھیجا گیا تو ان کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔

سوموار کو عامر کے وکیلوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ان کی رپورٹ کی بنیاد پر عرضی داخل کی ہے جس میں ان کی انتہائی خراب حالت کا ذکر ہے۔

گوانتانامو سے بہت سے قیدیوں کو رہائی ملی ہے جب کہ اب بھی بہت سے بغیر کسی فرد جرم کے وہاں قید ہیں
،تصویر کا کیپشنگوانتانامو سے بہت سے قیدیوں کو رہائی ملی ہے جب کہ اب بھی بہت سے بغیر کسی فرد جرم کے وہاں قید ہیں

عامر کے ایک وکیل کلائیو سٹیفورڈ نے کہا: ’12 برسوں کی زیادتیوں کے بعد شاکر کی نفسیاتی اور جسمانی حالت کے بارے میں یہ مایوس کن خبر آئی ہے اور یہ جان کر کوئی حیرت نہیں ہوئي کہ ایک آزاد ڈاکٹر نے کہا ہے کہ وہ گوانتانامو میں پی ٹی ایس ڈی میں مبتلا ہیں۔

’شاکر نے اپنے آپ کو ایک ایسی زنگ آلود کار سے مشابہ قرار دیا ہے جو جھڑ جھڑ کر ختم ہو رہی ہو۔ ایسی کوئي وجہ نہیں ہے کہ اسے اپنی بیوی اور بچوں کے پاس نہیں آنا چاہیے حالانکہ انھیں سات سال قبل سارے الزامات سے بری کر دیا گيا تھا۔

’کوئی صحت مند ذہن یہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ ایک شخص جو اذیتوں کا شکار رہا ہے وہ ایک دن اور بھی اس کا شکار ہو۔‘

عامر شاکر کیوبا میں موجود امریکی جیل میں 12 سال سے قید ہیں۔ ریپریو کا کہنا ہے کہ انھیں سنہ 2007 اور پھر سنہ 2009 میں دوبار رہائی کے لیے اجازت مل چکی ہے لیکن وہ اتنے دنوں سے بغیر کسی فرد جرم کے قید میں ہیں۔