شام میں مغوی صحافی رہا کر سپین پہنچ گئے

بائیں جانب ایل مینڈو کے نامہ نگار جاویر ایسپینوسا اور دائیں جانب فری لانس فوٹوگرافر ریکارڈو گارشیا ویلانوا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبائیں جانب ایل مینڈو کے نامہ نگار جاویر ایسپینوسا اور دائیں جانب فری لانس فوٹوگرافر ریکارڈو گارشیا ویلانوا

شام میں اغوا کیے گئے دو ہسپانوی صحافی چھ مہینوں تک اغواکاروں کے قبضے میں رہنے کے بعد رہا ہو کر میڈریڈ واپس پہنچ گئے ہیں۔

اس سے پہلے روزنامہ ایل مینڈو کے نامہ نگار جاویر ایسپینوسا اور فری لانس فوٹوگرافر ریکارڈو گارشیا ویلانوا کو رہا کرکے ترکی کی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

جب وہ میڈریڈ کے ہوائی آڈے پر پہنچے تو ان کے دوستوں اور خاندانوں والوں نے ان کا پرجوش انداز میں استقبال کیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شام میں درجنوں صحافی باغی جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں یا اغوا کیے گئے ہیں۔

انچاس سالہ جاویر ایسپینوسا اور 42 سالہ ریکارڈو گارشیا کو ستمبر میں اسلامی امارات فی العراق والشام نامی شدت پسند تنظیم نے پکڑ لیا تھا۔

ایل مینڈو کے مطابق دونوں صحافی شام میں دو ہفتے کی صحافتی مشن ختم کرکے وہاں سے نکلنے والے تھا کہ انھیں اغوا کر لیا گیا۔

ان صحافیوں کی حفاظت کرنے والے آزاد شامی فوج کے جسے مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے چار ارکان کو بھی اغوا کیا گیا تھا لیکن انھیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

ہسپانوی روزنامے کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے لواحقین کی درخواست پر ان کے اغوا کے معاملے کو پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ بہت سے اغوا کے معاملات کو بازیابی کے لیے کیے جانے والے مذاکرات میں مدد دینے کے لیے سامنے نہیں لایا جاتا۔

گذشتہ دسمبر کو 13 بین الاقوامی نیوز اداروں نے ایک خط کے ذریعے شامی باغیوں پر زور دیا تھا کہ وہ صحافیوں کو اغوا کرنا بند کریں اور مغوی صحافیوں کو رہا کریں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسلامی امارات فی العراق والشام شام میں تمام غیر ملکی صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو جاسوس سمجھتی ہے اور انھیں گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

رپورٹرز وید آؤٹ بارڈرز نے شام کو صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملک قرار دیا ہے۔