مالدیپ میں سعودی اثرورسوخ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, چارلس ہیوی لینڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کولمبو
مالدیپ جو دنیا کے پرتعیش تفریحی مقامات میں سے ایک اور ہنی مون منانے والوں میں بہت مشہور ہے جانے والے غیر ملکی اس سال کے آغاز میں کچھ زیادہ خوش نہیں تھے جب ان کے ہوٹل کی بکنگ مختصر نوٹس پر منسوخ کر دی گئی تھی۔
اس کی وجہ سعودی عرب کے ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے تین مکمل جزیروں کا ایک پورے مہینے کے لیے بک کیا جانا تھا۔
یہ مالدیپ میں بڑھتی ہوئی سعودی سرمایہ کاری کی ایک بڑی مثال ہے جس کی وجہ سے مالدیپ کی حکومت سعودی حکمرانوں کی فرمائشوں کو شاید نہ ٹال سکے۔
انانتارا کے تفریحی ریزورٹ کے ترجمان نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو بتایا جس نے اس خبر کو شائع کیا تھا کہ ’ہمیں اپنے مہمانوں کی بہتری کی فکر ہوتی ہے۔‘
شہزادہ سلمان جو سعودی عرب کے وزیردفاع بھی ہیں ایک سرکاری دورے پر مالدیپ پہنچے تھے جو انہیں مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے دیا تھا جو گذشتہ سال ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو ظاہر کرتا ہے جس کے علاوہ سعودی عرب نے مالدیپ کو گزشتہ سال سابق صدر کی دورِ حکومت میں 300 ملین ڈالر کا قرض پانچ سال کی مدت کے لیے نرم شرائط پر فراہم کیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کے تحت مالدیپ کی فضائی کمپنی سعودی عرب کے لیے 14 پروازیں شروع کرنے جا رہی ہے۔
سعودی پراپرٹی کمپنی بیسٹ چوائس 100 ملین ڈالر کے خرچ سے تفریحی ریزورٹ تعمیر کرے گی جس میں اس کے مطابق بہترین سہولیات ہوں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالدیپ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں سعودی تعاون حاصل کرنا چاہتا ہے مگر سب سے بڑا تعاون کا شعبہ اسلامی امور ہے۔
سعودی ولی عہد نے جزائر مالدیپ میں 10 بہترین مساجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا جن میں سے سات اسی سال تعمیر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ سعودی علما نے ملک کے اسلامی تعلیم کے نظام کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کے علاوہ مالدیپ نے 50 سکالرشپ دینے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت طلبا سعودی عرب میں تعلیم حاصل کرنے جا سکیں گے مگر اس کا ردِ عمل ابھی بہت سست ہے۔
سعودی عرب کی طرح مالدیپ میں بھی سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یامین عبداللہ نے جو مامون عبدالقیوم کے سوتیلے بھائی ہیں، مذہبی قدامت پسندی کی سوچ پر زور دیا ہے۔
یہ سعودی پیسہ ہی ہے جو ملک کی بڑی سول سروس کو قائم رکھنے کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔
صدر یامین کی حکومت دوسرے مذاہب کو اجازت دینے کے قوانین کو سخت کیا ہے اور یہودیوں کے لیے کوشر کھانوں پر پابندی عائد کرنے کا سوچ رہی ہے۔
سعودی سرمایہ کاری کےحصول کی خاطر مالدیپ کی حکومت زیادہ سیاحوں کو ایک جانب نہیں کر سکتی ہیں جو کہ ان جزائر کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کچھ سال قبل مالدیپ کے مالیاتی نگرانی کے ادارے نے اندازہ لگایا تھا کہ سیاحت ملکی معیشت کا 70 فیصد ہے جبکہ زرِ مبادلہ کا 90 فیصد اس کی وجہ سے آتا ہے۔
گزشتہ سال بارہ لاکھ افراد سیاحت کی غرض سے مالدیپ آئے جس کی آبادی صرف تین لاکھ تیس ہزار ہے۔
جہاں ایک جانب بڑے بڑے ریزورٹ عالمی برینڈز کی ملکیت ہیں جن میں امریکی ادارہ حایت یا فرانسیسی کلب میڈ ہے دوسری جانب چینی سیاح بڑی تعداد میں ملک میں آتے ہیں۔
گزشتہ سال 2012 کی نسبت 44 فیصد زیادہ سیاح مالدیپ میں سیاحت کے لیے آئے اور ملک میں آنے والے ہر چار سیاحوں میں سے ایک چینی تھا اگرچہ وہ یورپی سیاحوں کی نسبت بہت کم خرچ کرتے ہیں۔
مالدیب خطے کے بڑے ممالک میں سے ایک بھارت کے ساتھ تعلقات شکار ہیں۔ بھارت نے مالے میں میں ایئرپورٹ کی تعمیر کرنی تھی لیکن معاہدہ منسوخ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
نئی دہلی کی حکومت اب اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ایک دوطرفہ معاہدہ چاہتی ہے تاہم اسے مالدیپ کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے پر تشویش ہے جہاں مالدیپ کے فوجی سربراہ حالیہ دنوں میں دورے پر گئے تھے۔
مالدیپ کی دوسری بڑی صنعت ماہی گیری ہے جس میں ملک کے 20 فیصد کارکن ملازمت کرتے ہیں مگر اب اسے یورپی یونین کی جانب سے اس کی مچھلیوں کی درآمد کے ڈیوٹی فری سٹیٹس کے ہٹائے جانے پر نئی منڈیوں کی تلاش ہے۔
اس کے جواب میں مالدیپ نے یورپی یونین کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنی مچھلیوں کو حلال سرٹیفائی کروا کے نئی منڈیاں تلاش کرے گا جیسا کہ سعودی عرب ہے۔
حال ہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ایک اہلکار نے تجویز دی تھی کہ مالدیپ اپنےبجٹ کے خسارے کو کم کرنے کے لیے اپنا سیاحتی ٹیکس بڑھائے۔
مالدیپ کی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کی کوششیں اپنی جگہ مگر اس کے بہت سارے مغربی سرمایہ کار سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو بہت تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔







