جنسی استحصال کی شکار ویٹیکن کی کمیٹی میں

آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی میری کولنز جو ایک زمانے میں خود بھی جنسی استحصال کا شکار ہوئی تھیں کا تقرر بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے مقرر کیے گئے ویٹیکن کے کمیشن میں کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ سال دسمبر میں ویٹیکن نے اعلان کیا تھا کہ وہ كیتھولك چرچ میں بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے اقدامات اور بہتر بنانے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے گا۔
پوپ فرانسس نے ہفتہ کو کمیشن کے پہلے آٹھ ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جن میں چار مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔
کمیشن کا کام

،تصویر کا ذریعہGetty
ابھی تک یہ طے نہیں ہوا ہے کہ کمیشن کا کام کیا ہوگا۔
اس کمیشن کے بارے میں سب سے پہلے عوامی معلومات دینے والے کارڈینل شان پیٹرک اومیلی بھی اس کمیشن میں شامل ہیں۔
کمیشن کے ابتدائی رکن دنیا کے دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر گروپ کے دائرۂ کار کی وضاحت کر سکیں گے جو ’بچوں کی حفاظت کے کمیشن‘ کی کارروائی کے دائرے کی وضاحت کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگا۔
ویٹیکن کے ترجمان ریورنڈ فریڈریکو لمبارڈي نے ایک بیان میں کہا کہ ’پوپ فرانسس شانزدہم پہلے ہی صاف کہہ چکے ہیں کہ چرچ کو بچوں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح میں رکھنا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ماضی کو بھلائے بغیر مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے کمیشن نوجوانوں کی سیکورٹی کے ایک جامع نقطۂ نظر کو اختیار کرے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان نے کہا کہ ان میں قصورواروں کے خلاف مجرمانہ کارروائی کرنے، بچوں کے استحصال کے حوالے سے لوگوں کو تعلیم، پادریوں کے انتخاب کے اچھے طریقۂ کار تیار کرنے اور چرچ میں شہری اور دفتری فرائض کی وضاحت کرنا شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے سوال

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سال فروری میں اقوام متحدہ نے جنسی استحصال کے معاملات کے حوالے سے رومن كیتھولك چرچ پر سخت تنقید کی تھی۔
بچوں کے حقوق کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی کمیٹی (سيارسي) نے کہا تھا کہ ویٹیکن نے ’باقاعدہ‘ ایسی پالیسیاں اپنائیں جن سے پادریوں کو ہزاروں بچوں کا جنسی استحصال کرنے کا موقع ملا۔
اس کا کہنا تھا کہ ویٹیکن کو ایسے پادریوں کو فوری طور پر ہٹا دینا چاہیے جنہوں نے بچوں کا جنسی استحصال کیا ہے یا جن پر جنسی استحصال کا شبہ یا الزام ہے۔
اقوام متحدہ نے ہم جنس پرستی، بچہ دانی کے بچاؤ اور اسقاطِ حمل جیسے مسائل پر ویٹیکن کے نظریہ پر بھی تنقید کی۔
ویٹیکن نے چرچ میں بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن بھی تشکیل دیا ہے۔
سيارسي نے کہا تھا کہ ویٹیکن کو ان پادریوں کی فائلوں کو دوبارہ کھولنا چاہیے جنہوں نے بچوں کے استحصال کے جرائم چھپائے ہیں تاکہ انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔
جنوری میں ویٹیکن کے حکام سے عوامی طور پر یہ سوال کیا گیا تھا کہ وہ مجرموں کے بارے میں معلومات کیوں نہیں ظاہر کر رہے اور مستقبل میں بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔
دسمبر میں اقوام متحدہ نے ویٹیکن سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق معلومات مانگی تھیں لیکن ویٹیکن نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے قانونی استعمال کے لیے مانگے جانے پر ہی معلومات دی جاتی ہیں۔







