’جہاد جین‘ کو دس سال قید کی سزا

پیغمبرِ اسلام کا توہین آمیز خاکہ بنانے والے سویڈن کےآرٹسٹ کو قتل کرنے کے منصوبے میں ملوث ایک امریکی خاتون کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
50 سالہ کولین لروز نے 2011 میں اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے لارس ولکس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور دوسروں کو بھی اس کام پر اکسایا۔ کولین خود کو ’جہاد جین‘ کے نام سے پکارتی ہیں۔
اس مقدمے میں انھیں عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی تاہم دیگر مقدمات میں حکام کے ساتھ تعاون کرنے کی وجہ سے عدالت نے ان کی سزا میں کمی کر دی۔
سماعت کے دوران کولین کا کہنا تھا کہ ’میں اب جہاد نہیں کرنا چاہتی۔‘
لارس ولکس نے پیغمبرِ اسلام کا ایک توہین آمیز خاکہ بنایا تھا۔ اس کے بعد عراق میں اسلامی شدت پسندوں نے ان کے سر کی قیمت ایک لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی تاہم لارس ولکس پر کبھی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔
کولین لروز کو بیرونِ ملک میں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے، دہشت گردوں کو ساز و سامان فراہم کرنے اور اپنی شناخت غلط ظاہر کرنے کے الزامات میں مجرم پایا گیا۔
وکیلِ استغاثہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ کولین لروز نے گرفتاری کے بعد حکام کے ساتھ تعاون کیا ہے تاہم ان کا مطالبہ تھا کہ چونکہ وہ اب بھی انتہائی خطرناک خاتون ہیں، اس لیے انھیں کئی دہائیوں تک قید کی سزا سنائی جائے۔
پیر کو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کولین لروز نے انٹرنیٹ کے ذریعے جنوبی ایشیا اور یورپ میں پر تشدد کارروائیوں کے لیے لوگوں کو اکسایا اور پر تشدد کارروائیوں کے لیے ایسی خواتین کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جن کے پاس ایسے پاسپورٹ ہوں کہ سفر کرنے میں مشکلات نہ آئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کولین لروز ایک شدت پسند گروہ کے ساتھ مل کر لارس ولکس کےقتل کا منصوبہ بنانے کے لیے آئرلینڈ گئیں تاہم چھ ہفتوں کے بعد وہ واپس آگئیں۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنیفر آربٹر نے عدالت کو بتایا کہ کولین صرف اس لیے واپس آگئیں کیونکہ کہ وہ اس بات سے تنگ آگئیں تھیں کہ ان کے ساتھی عملی پیش رفت کے لیے تیار نہیں تھے۔
کولین کے وکیل مارک ولسن نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکل کو اب اسلام کی پرامن تعلیمات سمجھ آ گئی ہیں اور اب وہ کبھی بھی پر تشدد جہاد کا حصہ نہیں بنیں گی۔
کولین لروز نے عدالت کو بتایا کہ 2009 میں انھیں پر تشدد کارروائیوں کا جنون چڑھا ہوا تھا اور وہ دن رات اس کے بارے میں سوچتی تھی۔
عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے لارس ولکس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں انھیں آزاد کر دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ اب خطرناک نہیں ہے۔ سب کچھ منظرِ عام پر آ گیا ہے اور میرا نہیں خیال کہ اب وہ کچھ زیادہ کر سکتی ہے۔ انھیں جیل میں رکھنے سے اب کوئی فائدہ نہیں۔‘







